Freitag, 15. Juli 2011

اخلاقی قدریں اور ویا گرا

اخلاقی قدریں اور ویا گرا


میرے بچپن کے دور میں رحیم یار خاں اور مقامی آبادی میں خواتین کے لئے شٹل کا ک برقعہ رائج تھا ۔ شہری لوگوں میں تھوڑی تھوڑی تبدیلی آ رہی تھی ۔ سفید کفن نما برقعہ کی جگہ ریشمیں کپڑے کا سیاہ برقعہ پہنا جانے لگا تھا ۔ شٹل کاک برقعہ والے حلقے میں لیڈی ہملٹن کے سیاہ برقعے کو " بے حیائی " سمجھا جاتا تھا۔ میرے جوان ہونے تک ۔۔۔۔۔ یعنی بیس سال کے اندر اندر ہی نہ صر ف شٹل کاک برقعہ تقریباً غائب ہو گیا بلکہ سیاہ برقعہ سے بڑھ کر چادریں اوڑھنے کا رواج شروع ہو گیا۔ اب تو ان شہروں میں صرف دوپٹہ اوڑھے ہوئے بلکہ دوپٹہ گلے میں ڈالے ہوئے بیبیاں بھی عام دکھائی دیتی ہیں ۔ لڑکیوں کو پڑھائی کرانے کامعاملہ بھی شروع میں کچھ ایسا ہی تھا ۔ خانپور میں ہماری ایک ہمسائی ماسی خانزادی لڑکیوں کو پڑھانے کی سخت مخالف تھیں ۔ ان کا خیال تھا کہ لڑکیاں پڑھنا لکھنا سیکھ جائیں تو اپنے یاروں کو محبت نامے لکھتی ہیں ۔ بعض دوسری ہمسائیوں کا خیال تھا کہ لڑکیوں کو پانچ جماعت تک تعلیم ضرور حاصل کرنا چاہیئے ۔ ہمارے گھر والوں کے مطابق بچیوں کو دسویں تک تعلیم دلانے میں کوئی حرج نہیں لیکن کالج کی تعلیم ٹھیک نہیں تھی ۔ پھر ہمارے اپنے ہی عزیزوں اور احباب میں تین طرح کے لوگ ملے ۔ ایک کے نزدیک لڑکیوں کو کالج تک پڑھانے میں کوئی حرج نہیں لیکن یونیورسٹی نہیں بھیجیں ، وہاں ماحول بہت زیادہ کھلا ہوتا ہے ۔ دوسروں کے موقف کے مطابق لڑکیوں کو یونیورسٹی تک تعلیم تو دلانا چاہیئے لیکن ملازمت نہیں کرانا چاہیئے ۔ کیونکہ خواتین کوملازمت کرانے دیں تو اس سے بہت سارے اخلاقی مسائل پیدا ہوجاتے ہیں ۔جبکہ تیسروں کے نزدیک خواتین کا ملازمت کرنا قابلِ اعتراض نہیں تھا۔ان کے خیال کے مطابق اخلاقی مسائل اَن پڑھ دیہاتی ماحول میں بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ تعلیم اور ملازمت سے خواتین میں خوداعتمادی پیدا ہوتی ہے ۔ برقعہ کی سخت پابندی اور لڑکیوں کی تعلیم کی مخالفت سے شروع ہونے والا " اخلاقی قدروں "کا سفر وقت کے ساتھ ساتھ خود ہی اپنے آپ کو بدلتا چلا گیا ۔ ایسے ماحول میں ہی میں پلا بڑھا اور اس کے مختلف اثرات مجھ پر مرتسم ہوئے۔
اخلاقیات کی ایک قسم تو عالمی اور دائمی نوعیت کی ہے ، جو تمام مذاہب میں قدر مشترک ہے ، تاہم کبھی کبھی انفرادی نوعیت کی اخلاقیات اپنا جواز خود لے کر آتی ہے ۔ غالباً 1975 ء کی بات ہے ، بزم فرید خانپور کی مقامی نوعیت کی ادبی تقریبات کا سلسلہ جاری تھا ۔ تب ہی ریڈیو پاکستان بہاولپور کی ریکارڈنگ ٹیم خانپور آئی ۔ نصراللہ خاں ناصر پروڈیوسر تھے ۔ ہم نے گورنمنٹ سکول حلقہ نمبر ۲ میں ایک چھوٹے سے مشاعرے کا انتظام کیا ۔ صدارت کے لئے شیخ فیاض الدین کو مدعو کیا گیا جو خانپور کے تجارتی حلقوں کی معروف شخصیت تھے ۔ شاعری کے اچھے قاری اور سامع تھے ۔ مشاعرہ بعد از نماز مغرب ہونا تھا ۔ سو جیسے ہی مشاعرہ شروع ہونے لگا ، شیخ فیاض کے دو ملازم ، ایک نوجوان کو اس طرح پکڑے ہوئے اندر لائے کہ صرف قمیص نوجوان کے تن پر تھی اور اس کی دھوتی ایک ملازم کے ہاتھ میں تھی ۔ ملازموں نے یہ بتایا کہ یہ بدکار قریب کے ویرانے میں ایک گدھی کے ساتھ گناہ کا ارتکاب کر رہا تھا اور وہ اسے رنگے ہاتھوں پکڑ لائے ہیں ۔ نوجوان کے چہرے پر خوف اور شرمندگی کے گہرے اثرات تھے ۔ شیخ فیاض نے اس نوجوان سے اس کے دو تین نجی کوائف دریافت کئے ۔ کوئی بے حد مفلوک الحال تھا ۔ شیخ فیاض نے اپنے ملازمین کو ڈانٹ کر کہا یہ اتنا غریب ہے کہ نہ تو شادی کر سکتا ہے نہ کوٹھے پر جا سکتا ہے ۔ ایسے حال میں یہ غلطی کر بیٹھا ہے تو تمہیں اس سے کیا نقصان پہنچا ہے ، چلو اس کی دھوتی اسے واپس کر و ۔۔۔۔۔ پھر اس نوجوان سے بڑی ملائمت سے کہا جا بچے جا ۔۔۔۔ یہ واقعہ کوئی بہت بڑا واقعہ نہیں تھا لیکن میں جزا ، سزا کے جن تصورات کو بے حد اہمیت دیتا تھا ، مجھے پہلی دفعہ ان میں معافی کی گنجائش محسوس ہوئی ۔ شیخ فیاض کے رویے کا میں کوئی جواز نہیں دینا چاہتا ۔شاید دے ہی نہیں سکتا لیکن یہ حقیقت ہے کہ تب سے مجھے شیخ فیاض بحیثیت انسان ہمیشہ اچھے لگے ۔
اس سے مختلف ایک اور واقعہ چند سال پہلے جرمنی میں ہوا تھا ۔ ایک معروف مذہبی جماعت کے ایک سابقہ اعلیٰ عہدیدار جو عمر کے لحاظ سے لگ بھگ 60 کے پیٹے میں تھے ، ایک 40 سالہ پاکستانی خاتون کے ساتھ ایک آئس شاپ کے بیس منٹ کی ٹائلٹ سے پکڑے گئے ۔ ہوا یوں کہ دونوں کو محبت بڑھانے کے لئے Langen شہر کی ایک اٹالین آئس کریم شاپ مناسب لگی ۔ عشق کے اگلے مراحل طے کرنے کے لئے طے شدہ پروگرام کے مطابق پہلے خاتون بیس منٹ میں گئیں ، پھر وہ بزرگ بھی بیس منٹ میں اتر گئے ۔ اتفاق کی بات تھی کاؤنٹر پر موجود اطالوی دوکاندار نے خاتون کو نیچے جاتے نہیں دیکھا تھا لیکن بزرگ کو جاتے دیکھ لیا ۔ چنانچہ جب بزرگ کی واپسی میں دیر ہونے لگی تو دوکاندار کو یہ خدشہ ہوا کہ بزرگ آدمی تھے کہیں لیٹرین میں ہی دل کا دورہ نہ پڑ گیا ہو ۔ چنانچہ اس پریشانی کے ساتھ جب وہ نیچے گئے تو مردانہ لیٹرین کا دروازہ کھٹکٹانے پر مضحکہ خیز نظارا سامنے آیا ۔ مذکورہ خاتون اپنا لباس درست کرتی ہوئی اور بزرگوار اپنی بیلٹ باندھتے ہوئے باہر نکلے ۔ یورپ میں باہمی رضامندی سے ہونے والا جنسی عمل کوئی سماجی یا اخلاقی مسئلہ نہیں ہے ۔ لیکن لیٹرین میں Sex Play یورپ والوں کے لئے مضحکہ خیز حرکت ضرور تھی ۔ سو یوں یہ قصہ یہاں عام ہوا ۔
ان دو مختلف نوعیت کے واقعات کے ساتھ مجھے ایک ہولناک واقعہ یاد آ رہا ہے ۔ خانپور میں سیال فیملی کے لوگ ہمارے ہمسائے تھے ۔ عمومی طور پر یہ سب ہی اچھے لوگ تھے ۔ چھوٹی موٹی ناراضیاں تو قریبی رشتہ داروں میں بھی ہوتی ہیں یہ تو پھر ہمسائے تھے ۔ سارے لوگ اپنی سماجی اخلاقیات کے پابند تھے ۔ 1982 ء میں جب ہم نے اپنا پرانا گھر فروخت کیا اور ماڈل ٹاؤن میں کرائے کے ایک مکان میں منتقل ہونے لگے تو سیال فیملی کے ایک دوست ملنے آئے ۔ مکان کا سودا کرانے میں انہوں نے بھی تھوڑا سا مثبت کردار ادا کیا تھا ۔ بظاہر وہ مجھے خدا حافظ کہنے آئے تھے لیکن میں اس وقت سناٹے میں آ گیا جب انہوں نے بڑی لپٹی ہوئی مگر کچھ اس مفہوم میں بات کی کہ میرے ملنے جلنے والے دوست احباب بہت ہیں اس لئے یہ گھر تو بہت چھوٹا تھا ۔ بات کا طنزیہ انداز ایسا تھا جس کا میرے ذہن میں کہیں شائبہ تک نہ تھا ۔ شاید وہ مجھے ذہنی اذیت میں مبتلا کر کے لطف اٹھانا چاہتے تھے ۔ سو بظاہر تو نہیں لیکن اندر ہی اندر مجھے کہیں اذیت سی ضرور محسوس ہوئی ۔ آخر انہوں ایسا گمان بھی کیوں کیا ؟ ۔۔۔۔۔ اور ایک دن یہ اذیت بالکل ختم ہو گئی ۔ خانپور شہر کی تاریخ کا یہ ہولناک سانحہ یکایک سامنے آیا ۔ سیال فیملی کے اسی کرم فرما کی دو بیٹیوں اور تین لڑکوں کو پولیس نے دن دہاڑے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا تھا ۔ ایک مکان میں دونوں بہنیں مذکورہ لڑکوں کے ساتھ فحش فلمیں دیکھتے ہوئے وہی سین دہرا رہی تھیں ۔ اس سانحہ کے ساتھ مزید المیہ یہ ہوا کہ جائے وقوعہ سے پولیس اسٹیشن تک سارے گرفتار شدگان کو ننگے پاؤں پیدل چلا کر لایا گیا ۔ سب کے تن پر صرف ان کی لمبی قمیصیں تھیں جبکہ سب کی شلواریں اور جوتے ان کے سروں پر دھرے تھے ۔ آگے عبرت کی ایک الگ داستان ہے ۔ یہ واقعہ کچھ زیادہ ہی تکلیف دہ سا بیان ہو گیا ہے ، اس لئے ہلکی پھلکی شرارت والی یادوں کو کریدتا ہوں ۔
چند سال پہلے بخش لائلپوری لندن سے جرمنی آئے ۔ میرے ہاں مقیم تھے ۔ ان سے جو باتیں ہوئیں ‘ ان میں ایک قصہ بے حد مزے کا تھا ۔ مغرب میں جنسی آزادی ( بے راہروی ) کا مغرب والوں کا اپنا الگ سا تصور ہے ۔ بچوں کے لئے طرح طرح کی گڑیائیں بنانے والوں نے بڑوں کے لئے بھی گڑیائیں بنا دی ہیں ۔ مارکیٹ میں ربڑ کی ایسی گڑیائیں دستیاب ہیں جن میں ہوا بھردیں تو وہ پوری عورت بن جائے ۔ پاکستان سے ایک ادیب لندن گئے تو سیرو سیاحت کے ساتھ ربڑ کی گڑیا بھی خریدی ۔ پھر وطن چلے گئے ۔ چند دن کے بعد بخش لائلپوری کے نام ان کا خط آیا کہ وہ ربڑ کی گڑیا پنکچر ہو گئی ہے ، تم جانتے ہومیں ایک معزز آدمی ہوں اس لئے کسی دوکان پر پنکچر لگوانے کے لئے نہیں جا سکتا ۔ تم مہربانی کرو اور ربڑ کی ایک اور گڑیا لے کر مجھے بھیج دو ۔ چنانچہ بخش لائل پوری نے ان کی فرمائش پوری کر دی۔ تاہم بخش لائل پوری نے گڑیا کے پنکچر ہو جانے کا قصہ ایسے انداز سے سنایا کہ ہنستے ہنستے پیٹ میں بَل پڑ گئے ۔ میں نے انہیں کہا آپ اس معزز ادیب کی فرمائش پوری کرنے کی بجائے اسے لکھتے کہ پہلے سائیکلوں کی مرمت کرنے والے کسی کاری گر کے شاگرد بنو ، وہاں سے پنکچر لگانے کی تربیت حاصل کرو اور پھر خود ہی اپنے کئے ہوئے پنکچر ٹھیک کرتے رہو ۔
ایک اور مزے کا واقعہ ۔۔۔۔۔ اکبر بابر ایڈووکیٹ خانپورکے ممتاز وکلاء میں شمار ہوتے تھے۔اپنے ہی مُوڈ کے آدمی تھے۔شیخ فیاض الدین کی اور ان کی گہری دوستی تھی۔اُن دنوں شیخ فیاض بلدیہ خانپور کے چےئر مین تھے ۔ اکبر بابر کا موڈ خوشگوار تھا ، اپنی موج میں باتیں کر رہے تھے ، اسی لہر میں کہنے لگے بلدیہ خانپور کے سارے کونسلرز Gay ہیں ، سوائے ایک کونسلر کے ( انہوں نے Gay کی جگہ گاف سے شروع ہونے والا ایک سلیس سا لفظ کہا تھا جو اردو پنجابی اور سرائیکی تینوں زبانوں میں یکساں مستعمل ہے ) میں نے پوچھا جو کونسلر Gay نہیں ہے ، کیا وہ شیخ فیاض ہیں ؟ کہنے لگے ہرگز نہیں ۔۔۔۔ وہ بھی گے ہے ۔ میں نے پوچھا کیا ثبوت ہے ؟ کہنے لگے میں خود ثبوت ہوں ۔۔۔۔۔ اس کے بعد میں ان سے کیا پوچھتا ۔ لیکن پھر خیال آیا اور میں نے آہستہ سے پوچھ ہی لیا کہ وہ خوش نصیب کونسلر کون ہے جو آپ کے بقول گے نہیں ہے ؟ انہوں نے چہکتے ہوئے کہا لیڈی کونسلر ۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر وزیر آغا ایک بار اپنے صاحبزادے سلیم آغا کے ساتھ لندن کی سیاحت کیلئے گئے تھے ۔ ان کی واپسی پر میں اور ڈاکٹر پرویز پروازی ان سے ملنے کے لئے ان کے گاؤں وزیر کوٹ گئے ۔ وزیر آغا اور سلیم لندن کے احوال بتا رہے تھے پرویز پروازی ،ڈاکٹر وزیر آغا کے ایج گروپ کے ہیں ، ان کے دوست بھی ہیں ، سو سلیم آغا ان کا بزرگوں کی طرح احترام کرتے ہیں یکایک پرویز پروازی نے سلیم آغا سے ایک شریر سا سوال پوچھ لیا ۔۔ سنا ہے کہ اصل انگلش نسل خواتین کا Bottom بندر کے Bottom جیسا ہوتا ہے ۔ آپ کا تجربہ کیا کہتا ہےٍ ؟ سلیم آغا کا مزاج بھی اس انداز کی باتوں والا نہیں ہے ، چنانچہ اس اچانک اور بے باک سوال پر وہ شرما کر رہ گئے ۔ لیکن ڈاکٹر وزیر آغا نے بڑی ہی برجستہ معصومیت کے ساتھ کہا ۔۔۔۔۔۔۔ جس نے بندر کا Bottom5 ہی کبھی نہیں دیکھا ، وہ اس بارے میں کیا بتا سکتا ہے ۔
مشرقی عشق میں بندر کا تو نہیں البتہ کتے کا ایک اہم رول رہا ہے ۔ لیلیٰ کا کتا اس کی واضح مثال ہے ۔ ادھر مغرب میں بھی یہاں کی لیلاؤں اور ان کے کتوں کی ایک بڑی تعداد دیکھی جا سکتی ہے ۔بعض کتے تو بلی کے بچے سے بھی زیادہ نازک ہوتے ہیں ۔ ٹھہریئے مغرب کی بات بعد میں ۔۔۔۔۔۔۔ یہاں مجھے پاکستان کے ایک عزیز کا ایک نازک سا کتا یاد آ گیا ہے ۔ اس عزیز کو کبوتر بازی کا شوق تھا اوراس نے بلی کے بچے جتنا ایک چھوٹا سا کتا بھی پال رکھا تھا ۔ ایک بار یوں ہوا کہ کتا گھر کی چھت پر کبوتروں کے دڑبے کے پاس بیٹھا تھا ، کبوتر دڑبے سے باہر غڑغوں کر رہے تھے ۔ اچانک وہاں ایک بلی آ گئی ، کتا بچارا بہت ہی نازک سا تھا ۔ اس نے بلی کو دیکھ کر اپنے فرض کا احساس کیا اور کبوتروں کی حفاظت کے طور پر اپنی نازک سی غراہٹ کی آواز نکالی ، اس کے ساتھ ہی شاید اسے خیال آ گیا کہ بلی اسے بھی نقصان پہنچا سکتی ہے ، چنانچہ پھر وہ خود ہی پیچھے ہٹتا چلا گیا ۔ وہ عزیز چھت کی سیٹرھیوں کے اوپر ی حصہ سے خود یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا ۔
مجھے ہمیشہ کتوں سے ڈر لگا ہے ۔ اب یہاں بہت ہی چھوٹے اور نفیس سے کتے دیکھنے کے بعد اتنا حوصلہ ہو گیا ہے کہ انہیں محبت بھری نظروں سے مسکرا کر دیکھ لیتا ہوں مگر تھوڑے فاصلے سے ۔۔۔ جب میں جرمنی میں نیا نیا پہنچا ۔ ایک بار صبح کی سیر کر رہا تھا ۔ نہر کے کنارے کنارے جا رہا تھا مجھ سے کافی آگے ایک نوجوان جوڑا اپنی مستی میں جا رہا تھا ۔ ان کے ساتھ ایک چھوٹا سا کتا بھی تھا ۔ اس کتے کو بلی کے سائز جتنا سمجھ لیں ۔ اس کم بخت کی نظر مجھ پر پڑ گئی اور وہ میری طرف منہ کر کے رک گیا میں نے خوفزدہ آواز میں زور سے ہیلو۔۔۔۔ہیلو ، کہہ کر اس مست جوڑے کو پکارا تو کتا باقاعدہ بھونکنے لگا ۔ میں نے اردو میں ہی چلا کر کہا ، اپنے کتے کو سنبھالو ۔۔۔۔ لڑکی نے مڑکر دیکھا اور اتنے زور سے ہنسنے لگی کہ میں خود کو بے وقوف محسوس کرنے لگا ۔ اسی دوران لڑکے نے کتے کو آواز دی تو وہ بھونکتا ہوا اپنے مالکوں کے پاس چلا گیا اور میری جان میں جان آئی ۔
بڑے میاں سو بڑے میاں ، چھوٹے میاں سبحان اللہ ۔۔۔۔۔۔ میرا چھوٹا بیٹا ٹیپو بھی مجھ سے کم ڈرپوک نہیں ہے ۔ پاکستان میں جب ٹیپو اور میرا بھانجا احمد ، دونوں ابھی بہت چھوٹے بچے تھے ، گھر سے باہر گلی میں کھڑے تھے ، اچانک انہیں گلی میں ایک چھوٹا سے کتا دکھائی دیا اور دونوں یہ کہتے ہوئے گھر کو بھاگے ۔ بھادو (بھاگو) ۔۔۔ بھادو ۔۔۔۔۔ شیر آیا ۔ یہاں جرمنی میں جب ٹیپو کی عمر تیرہ سال کی تھی ۔ اسے چیک اپ کے لئے دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس جانا تھا ۔ سائیکل اسٹینڈ پر اس نے اپنی سائیکل لاک کی ، جب ڈاکٹر سے ہو کر واپس آیا تو یہ دیکھ کر اس کے ہوش اڑ گئے کہ کوئی اپنا کتا بھی سائیکل اسٹینڈ کے ساتھ باندھ گیا ہے ۔ کتا بے شک چھوٹا تھا لیکن تھا تو کتا ہی ۔۔۔۔ آخر ٹیپو نے چھ سات سال کے ایک جرمن بچے کو پیش کش کی کہ اگر میری سائیکل نکال کر لا دو تو تمھیں ایک مارک دونگا ۔ بچے نے ساری سچویشن سمجھنے کے بعد مسکرا کر آفر قبول کر لی ۔ ٹیپو سے سائیکل کے لاکر کی چابی لی اور آرام سے سائیکل نکال کر لا دی ۔
بات ہو رہی تھی مغربی لیلاؤں کے نازک کتوں کی ۔ نازک اندام گوریاں ننھے منھے سائز کے کتوں کے ساتھ پھر بھی سج جاتی ہیں لیکن بعض گوریوں نے تو ایسے جسیم اور خوفناک کتے پال رکھے ہیں کہ ان کے کتے تو کتے خود ان گوریوں کی طرف دیکھتے ہوئے بھی خوف محسوس ہوتا ہے ۔ اہل مغرب کا کتوں سے گہری محبت کرنا بظاہر ان کا معاشرتی انداز لگتا ہے لیکن مجھے اس میں ایک ایسا مذہبی حوالہ محسوس ہوتا ہے جسے شاید اہل مغرب اب تسلیم بھی نہ کریں ۔ اصحاب کہف ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکارتھے اور ان کے ساتھ ان کے کتے کا ذکر موجود ہے ۔ سو مذہب کے ابتدائی سفر میں کتے کی وفاداری نے مسیحی اہل مغرب کو کتے کی طرف زیادہ راغب کیا ۔ اس میں مغربی کلچر کے مختلف رنگ بھی ملتے گئے اور یہ وفادار جانور مغربی معاشرت کا ایک حصہ بن گیا ۔ واللہ اعلم بالصواب۔
حالیہ دنوں میں ویاگرا کی ایجاد نے ساری دنیا میں خاصا تہلکہ مچایا ہے ۔ مغرب والوں نے شروع میں اسے جائز ضرورت کے طور پر استعمال کرنے کی بجائے محض زیادہ سے زیادہ لذت انگیز مقصد کے لئے استعمال کرنا چاہا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ شروع میں ہی چار پانچ اموات کی خبریں آ گئیں ۔ ان ساری اموات سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ بعض کم عمر نوجوان اسے استعمال کر بیٹھے ۔ جنہیں اس کے استعمال کی قطعاً ضرورت نہ تھی یا پھر ایسے ادھیڑ عمروں نے اسے استعمال کیا جنہوں نے پہلے ہی خاصی شراب چڑھا رکھی تھی ۔ ویاگرا شراب تو تھی نہیں کہ پہلی شراب میں مل کر نشہ کو بڑھاتی ۔ ایک صاحب نے شراب اور ویاگرا کے استعال کے بعد ڈسکو کلب کا رخ کیا اور وہیں جان دے دی ۔ یہ دل کے مریضوں کے لئے زہر ہے ، دوسرے کسی نشے کے ساتھ انتہائی مضر ہے ۔ 55 سال کی عمر تک کے لوگوں کے لئے عام طور پر مفید ہے لیکن اس کے لئے جائز ضرورت مند ہونا ضروری ہے ۔ سو اہل مغرب نے اب ویاگرا کا جائز استعمال سمجھ لیا ہے ۔
ان کے برعکس ہمارے بعض مشرقی دانشوروں نے اس دوا کی مخالفت کرتے ہوئے معلم اخلاق بننے کا فریضہ ادا کرنے کی کوشش کی ہے ۔ بعض نے اسے میکانکی عمل قرار دیا ہے ۔ میرا خیال ہے صدیوں تک نوابوں ، راجوں ، مہاراجوں ، بادشاہوں اور شہنشاہوں کے در باری اطباء نے جو نسخہ طبقہ خواص تک محدود رکھا ، اب وہ ویاگرا کی صورت میں زیادہ بہتر ہو کر عام ضرورت مند انسان کو بھی فیض یاب کرنے لگا ہے ۔ ویاگرا کا مثبت استعمال بہت سے ضرورت مندوں کے لئے مفید ثابت ہو گا ۔ جہاں تک میکانکیت کا تعلق ہے ، اگر انسانی جذبات کا تجزیہ کیا جائے تو آج کی سائنس نے اسے بھی کیمیائی تماشہ ثابت کر دیا ہے ۔ فلاں جز کو کم کر دیں تو انسان کا غصہ ختم ہو جائے گا ۔ فلاں جز کو نکال دیں تو غم کا احساس نہیں رہے گا ۔ اور تو اور محبت کا کوئی کیمیائی جز بھی تلاش کر لیا گیا ہے ۔ اسے نکال دیں تو محبت کا جذبہ ہی ختم ہو جائے گا یوں تو پھرمحبت سمیت سارے انسانی جذبات ہی ایک کیمیائی کھیل سے زیادہ کچھ نہیں رہتے ۔ انڈیا کے بارے میں تو میری معلومات زیادہ نہیں ہیں لیکن پاکستان میں " زندگی سے مایوس لوگوں کے لئے خوشخبری " جتانے والے دیسی معالج لاکھوں کی تعداد میں دوکانیں سجائے بیٹھے ہیں جبکہ ان میں 99 فی صد فراڈ ہیں جو مجبور ضرورتمندوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں ۔ ویاگرا کی آمدسے فراڈ قسم کے دیسی معالجین کو خاصا نقصان پہنچے گا ۔
جنسی عمل ہر ذی روح کی زندگی کا اہم حصہ ہے ۔ انسانوں میں اسے اچھے انسانی اور فطری طریقے سے بروئے کار لانے میں ہی بہتری ہے ۔ اس سلسلے میں مغرب اور مشرق کے عمومی رویے انتہا پسندانہ ہیں ۔ اہل مغرب نے سب کچھ کھول کھال کر رکھ دیا ہے ، کچھ بھی مخفی نہیں رہنے دیا جبکہ اہل مشرق نے اس عمل کو ایک طرح سے شٹل کاک برقعہ سے ڈھانپ رکھا ہے ۔ ہم پردے کے اندر سب کچھ کر گذرتے ہیں ۔ یوں ہمارا معاشرہ دوہرے پن کا ملزم قرار پاتا ہے ۔ مشرق اور مغرب کے دونوں رویوں کو کسی حد تک سمجھ لینے کے بعد میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ بقائے نسل انسانی کے اس اہم ترین عمل کو شٹل کاک برقعہ سے ملفوف رکھنے کی بجائے ریشمیں برقعہ جتنا پردہ رکھنا چاہیئے ۔ دوہرا لیکن خاصا باریک نقاب ۔ جں میں سے ایک نقاب آنکھوں کو کھلا چھوڑتے ہوئے دوسرے کان تک چلا جائے اور ایک نقاب پورے چہرے پر پڑا رہے ۔ یعنی تھوڑا سا پردہ بہرحال ضروری ہے ۔
***

دعائیں اور قسمت

دعائیں اور قسمت


مذہب کی ایک سطح عقائد اور فروعات سے تعلق رکھتی ہے۔دنیا کے بیشتر مذہبی جھگڑے اسی سطح سے اُبھرے اور خونریز فسادات کی حد تک گئے۔مذہبی اختلافات اور فسادات کا یہ سلسلہ آج بھی دنیا بھر میں کسی نہ کسی رنگ میں چل رہا ہے۔جبکہ مذہب کی دوسری اور اہم سطح روحانیت سے متعلق ہے۔دنیا کے ہر مذہب اور ہر مسلک سے تعلق رکھنے والے کا دعویٰ ہے کہ صرف اسی کے مسلک پر عمل پیرا ہوکر خدا سے روحانی تعلق قائم کیا جا سکتا ہے۔یوں ہر دعویدار کے بقول دنیا کے ننانوے فیصد مذاہب جھوٹ ہیں اور صرف وہی سچ ہیں۔میرے ایک نِیم دہریہ قسم کے دوست مسعود شاہ ہنستے ہوئے کہا کرتے تھے کہ ننانوے فیصدمذاہب کو جھوٹ کہنے والے ‘اپنے لئے ایک فیصد جھوٹ بچا لیتے ہیں اور اسے سچ قرار دیتے ہیں۔
معتقدات سے ہٹ کر جہاں تک خدا سے کچھ مانگنے کا تعلق ہے‘میرے نزدیک یہ ہر انسان اور خدا سے اس کے تعلق کی نوعیت پر منحصر ہے۔نسیم سیفی صاحب طویل عرصہ تک بعض افریقی ممالک میں مقیم رہے۔وہ ایک بار بتانے لگے کہ خشک سالی کے باعث قحط کا خطرہ پیدا ہو گیاتو مسلمانوں نے نمازِ استسقاء پڑھنے کے لئے ایک تاریخ کا اعلان کردیا۔اس تاریخ سے ایک یا دو دن پہلے سِکھ حضرات نے ایک گراؤنڈ میں اپنے طریقِ عبادت کے مطابق اجتماعی دعا کی اور مسلمانوں کے نماز استسقاء پڑھنے کی نوبت ہی نہیں آئی۔برسات نے پہلے ہی دھرتی کو سیراب کردیا۔
’’مظلوم کی دعا اور خدا کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا‘‘عمومی طور پر انسانی تاریخ اور عصرِ حاضر کی صورتحال کو دیکھیں تو اس فرمان میں ہمیں بے شمار مستثنیات دکھائی دیں گی۔لیکن مجھے ذاتی زندگی میں ہمیشہ اس فرمان کی سچائی کا جلوہ بلکہ جلالی جلوہ دیکھنے کو ملا ہے۔میں جب بھی مظلومیت کی حالت میں ہوا‘میرے ساتھ ظلم کرنے والا کوئی عام انسان تھا تو وہ بھی خدا کی گرفت سے نہیں بچا اور اگر کسی کو خدا سے تعلق کا کوئی زعم تھا اور اس نے میرے خلاف کوئی ظالمانہ کاروائی کی تو جس نوعیت کی کاروائی کی گئی‘زیادہ سے زیادہ تین ماہ کے اندر ویسی ہی کاروائی خود اس کے خلاف ہو گئی یا اس سے بھی زیادہ رُسوائی اسے بڑے پیمانے پر مل گئی۔ میں نے ایک چیز اور بھی نوٹ کی ہے۔اگر میں کسی کی زیادتی کا بدلہ خود لے لوں تو میرا بدلہ ہی اس کی سزا ہوتا ہے۔لیکن اگر میں کسی سے بدلہ نہ لے سکوں۔۔۔خواہ مجبوری کے باعث‘خواہ صبر کرکے۔۔۔میری خاموشی کے نتیجہ میں ظالم کو قدرت کی طرف سے ایسی سزا ملی کہ میں خود بھی بعض اوقات دُکھی ہو گیا کہ مولا! اتنی کڑی سزا تو انہیں نہ دینا تھی۔بعینہٖ اگر میں کسی کے ساتھ کبھی ناجائز زیادتی کرجاؤں تو مجھے بھی خدا کی طرف سے سزا ملنے کا احساس ہوتا ہے اور صاف دکھائی دیتا ہے کہ یہ فلاں زیادتی کی سزا ہے۔
چند قرآنی اور مسنون دعائیں مجھے بچپن میں رٹا دی گئی تھیں۔ان کی بھی ایک اہمیت ہے لیکن میں جب کسی دُکھ کی حالت میں ہوتا ہمیشہ اپنی زبان میں خدا سے دعا کرتا۔بہت بار ایسا تجربہ ہوا کہ میں نے دعا کی اور اسی حالت میں مجھے دعا کی قبولیت کا یقین بھی ہو گیا۔جب بارہا ایسا ہوا تو میں نے اپنے بعض قریبی عزیزوں کو اس بارے میں بتایا۔اس بتانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو دعا بظاہر قبول ہو چکی تھی‘ایک لمبے وقفہ تک معلّق ہو گئی۔دو تین بار ایسے جھٹکے لگنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ قبولیت دعا کا نشان تو خدا کے مامورین اور اولیاء کے لئے مخصوص ہے۔میری کسی بھی دعا کا قبول ہونا میرا انفرادی معاملہ ہے۔اگر میں اسے دوسروں کو بتاؤں گا تو مقامِ ولایت پر قدم رکھنے جیسی جسارت کروں گا‘جس کا میں اہل ہی نہیں۔سو اسی لئے وہ دعائیں جن کی قبولیت کے بارہ میں دوسروں کو بتا دیتا ہوں‘لمبے عرصہ کے لئے ردّو قبول کے درمیان معلّق ہوجاتی ہیں اور یہی میرے افشاء کی سزا ہوتی ہے۔
عجب سزا ہے کہ میرے دعاؤں والے حروف
نہ  مسترد  ہوئے اب تک  نہ  مستجاب  ہوئے
اپنی زبان میں دعاؤں کا میرا سلسلہ اُس وقت متزلزل ہونے لگا جب میں نے ۱۹۸۶ء میں اپنے ابا جی اور امی جی کی لمبی عمر کی دعائیں مانگنا شروع کیں اورمیرے دیکھتے ہی دیکھتے میرے دونوں بزرگ دنیاسے چل بسے۔پھر میں نے اپنے باباجی(تایا جی)کے لئے یہی دعا کی اور وہ بھی فوت ہوگئے۔تب میں جو بھی دعا کرتا اُس کی تاثیر اُلٹ ہوجاتی ؂
جو  دعا  کرتے تھے  اُلٹا ہی  اثر ہوتا تھا
تیری چاہت کی دعا رب سے بچا لی ہم نے
اسی دوران مجھے پھٹی پرانی اور خستہ سی حالت میں قرآنی اور مسنون دعاؤں کی ایک چھوٹی سی کتاب ملی۔ہر دعا کے ساتھ اس کا ترجمہ بھی درج تھا۔مجھے یہ کتاب کیا ملی‘نئی زندگی مل گئی۔اسے لاہور سے کے۔ اے۔ عزیز نے شائع کیا تھا۔انہیں اور ان کی اولاد کو میں آج بھی اپنی دعاؤں میں شامل رکھتا ہوں۔اس کتاب کے ذریعے مجھے پہلی بار صبح اور شام کی مسنون دعاؤں کا علم ہوا۔پھر دن بھر میں پیش آمدہ مختلف مسائل اور پریشانیوں کو دور کرنے والی دعائیں۔خیروبرکت کی دعاؤں سے لے کر ’’سید الاستغفار‘‘ تک دعاؤں کا ایک خزانہ میرے ہاتھ لگ گیا۔تب میں نہ صرف بے روزگار تھا بلکہ ۸۰ ہزار روپے کا مقروض ہو چکا تھا۔اور بعض’’صاحبِ ایمان‘‘لوگ مجھے ’’ کیفرِ کردار ‘‘ تک پہنچا کر اپنی صداقت کا نشان بنانے پر تُلے ہوئے تھے۔
ان دعاؤں کو میں نے اتنی بار دل کی گہرائی سے پڑھا کہ مجھے زبانی یاد ہوگئیں اور آج بھی میرے روزانہ وظیفہ کا حصہ ہیں۔اگرچہ ان کے وِرد میں اب پہلے جیسی لذّت اور کیفیت تو نصیب نہیں ہوتی(اس کی وجہ میری اپنی داخلی کیفیت ہے)‘تاہم میں نے ان دعاؤں کو آج بھی حرزِ جاں بنا رکھا ہے۔ان کے نتیجہ میں پہلے مرحلہ میں مجھے پاکستان انٹرنیشنل پبلک اسکول اینڈ کالج ایبٹ آباد میں اردو پڑھانے کی بہت عمدہ جاب مل گئی اور دوسرے مرحلہ میں مجھے جرمنی پہنچنا اور یہاں سیٹ ہونا نصیب ہو گیا۔یہ دعائیں مختلف کتابچوں کی صورت میں دینی کتب کی دوکانوں سے باآسانی مل جاتی ہیں۔اپنے ذاتی تجربہ نہیں‘پیہم تجربات کی بنیاد پر میں دعا کا ایک مسنون نسخہ سارے دوستوں کے لئے یہاں بیان کئے دیتا ہوں۔جمعہ کے دن فجر کی نماز کے بعد سورۃ یاسین اور سورۃ صافات پڑھ کر دعا کے لئے ہاتھ اُٹھا لیں اور خدا سے کوئی ایک(صرف ایک)دلی مُراد مانگیں۔
جائز مُراد ہونے کی صورت میں ایک دو جمعوں میں ہی مُراد پوری ہو جاتی ہے۔کوئی بہت ہی مشکل قسم کا کام ہو تو اس کی مشکل کے مطابق وقت زیادہ بھی لگ سکتا ہے۔لیکن ثابت قدمی سے اور باقاعدگی سے یہ وظیفہ جاری رکھنا ضروری ہے۔میں نے جرمنی پہنچنے کے لئے لگ بھگ دوسال تک یہی مُراد مانگی تھی اور یہ میری سب سے طویل دورانیے کی دعا تھی۔دعا کا یہ طریق مسنون ہے لیکن مُراد مانگتے وقت ہر بندے کا خدا کے ساتھ اپنا ہی انداز ہوتا ہے۔میں تو ضد کرکے بیٹھ گیا تھا۔رو رو کر بُرا حال کر لیا تھا ’’میں نے جرمنی جانا ہے۔مجھے جرمنی پہنچائیں‘‘کی رَٹ لگا دی تھی۔دو سال تک رُلانے کے بعد خدا نے نہ صرف یہ مُراد پوری کردی بلکہ اس کے ساتھ اور بھی بہت ساری دعائیں از خود پوری ہو گئیں۔
یہاں جرمنی میں میرے ایک دوست ہیں ارشادہاشمی صاحب۔کمپیوٹر انجینئر ہیں۔بہت ہی بھلے آدمی ہیں۔آج کل جرمنی سے ایک ادبی خبر نامہ’’اردودنیا‘‘بھی نکال رہے ہیں۔ایک بار انہوں نے اپنی بعض ذاتی پریشانیوں کی بابت بتایا تو میں نے انہیں مخصوص دعاؤں کے وِردکی تحریک کی۔دعاؤں والی وہ پھٹی پرانی کتاب میں نے آج بھی بہت سنبھال کررکھی ہوئی ہے۔میں نے ہاشمی صاحب کو وہ کتاب دیتے ہوئے کہا اس کی فوٹو کاپی کرالیں۔ان دعاؤں کے باعث میرے سارے دُکھ دور ہو گئے ہیں۔ہاشمی صاحب نے کتاب میرے ہاتھ سے لیتے ہوئے مسکرا کر کہا :
’’اب آپ باقاعدہ طور پر کہہ سکتے ہیں‘ ۔ ؂لے جا مِری دعائیں لے جا‘‘
دعاؤں کی کتاب کے ساتھ انہوں نے برجستہ طور پر جو گانا جوڑ دیا تھا‘اس پر میں بھی بے ساختہ مسکرا دیا۔
بیدار ہونے اور رات کو سونے سے پہلے کی دعائیں اور فجر کی نماز کے بعد کی بہت ساری دعائیں۔۔۔اوران کے علاوہ میری زندگی سے گہر ا تعلق رکھنے والی بعض دعائیں ایسی ہیں جن کا میں دن میں ایک بار مکمل وِرد کرتاہوں۔اپنی جاب پر جاتے ہوئے مجھے بذریعہ ٹرین آدھے گھنٹے کاسفر کرنا ہوتا ہے اور اس عرصہ میں ان ساری دعاؤں کا ورد مکمل کرلیتا ہوں۔ورد کرتے ہوئے ہونٹ تو بہر حال ہلتے ہیں۔بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ میرے سامنے کوئی گوری بیٹھی ہے اور میرے ہِلتے ہوئے ہونٹوں کو حیرت سے دیکھ رہی ہے۔وِرد کرتے ہوئے میں عموماََ غضِّ بصر سے کام لیتا ہوں۔اس کے باوجود کبھی کبھار نظر اُٹھ تو جاتی ہے۔ایک بار عام گوریوں سے کہیں زیادہ خوبصورت گوری میرے سامنے آبیٹھی اور میرے وِرد پر اس کی حیرت بھی غیر معمولی سی لگی۔مجھے لگا یہ ابھی مجھ سے پوچھ بیٹھے گی کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں؟۔۔۔اُس نے تو نہیں پوچھا لیکن اپنی اُس وقت کی حالت پر مجھے ایک لطیفہ یاد آگیا اور وظیفہ کے دوران ہی ایک شریر سی مسکراہٹ میرے چہرے پر پھیل گئی۔لطیفہ یوں ہے:
ایک صاحب اپنے دوست کے گھر گئے تو دیکھا کہ وہاں ایک پنجرے میں دو طوطے بند ہیں۔ایک طوطا حالتِ سجدہ میں ہے اور ایک طوطا مسلسل تسبیح کر رہا ہے۔وہ صاحب دونوں طوطوں کی شرافت اور نیکی سے بہت متاثر ہوئے اور اپنے دوست سے کہنے لگے میرے پاس ایک طوطی ہے جو بہت شرارتی ہے۔اگر آپ اجازت دیں تو وہ طوطی دوچار ہفتوں کے لئے آپ کے طوطوں کے پاس چھوڑ جاؤں تاکہ ان کی رفاقت میں طوطی کی بھی تربیت ہو جائے۔دوست راضی ہو گیا تو وہ صاحب اپنی طوطی لے آئے۔جیسے ہی طوطی کو طوطوں والے پنجرے میں ڈالا گیا‘تسبیح والے طوطے نے فوراََ اپنی تسبیح پرے پھینکی اور سجدہ ریز طوطے کو ہلا کر کہنے لگا:یار! اُٹھ جاؤ‘آخر ہماری دعا قبول ہو ہی گئی۔
دعاؤں کے سلسلے میں میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ اگر کوئی دعا بہت زور لگانے کے باوجود بھی قبول نہیں ہوتی تو مجھے یقین ہوجاتا ہے کہ اس دعا کا قبول نہ ہونا ہی میرے حق میں بہتر ہے۔اس سلسلے میں یہ قرآنی فرمان ہمیشہ میرے مدِّ نظر رہتا ہے کہ بہت سی باتیں ہیں‘جنہیں تم اپنے لئے بہتر سمجھتے ہو لیکن وہ تمہارے حق میں بہتر نہیں ہیں۔اور بہت سی باتیں ہیں جنہیں تم اپنے لئے بہتر نہیں سمجھتے لیکن وہ تمہارے حق میں بہتر ہوتی ہیں۔اﷲ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔۔۔۔دعا کی ایک اور قِسم جو قبول نہیں ہوتی وہ تقدیرِ مبرم سے متصادم دعا ہے‘ جب ایک چیز مقدّر میں ہی نہیں ہے تو دعا کے باوجود اس کا ملنا محال ہے۔
مقدّرکی بات چلی ہے تو یہاں واضح کردوں کہ میں قسمت پر بہت یقین رکھتا ہوں۔میرے لڑکپن میں خانپور میں ہماری ایک ملنے والی خالہ جمیلہ نے میرا ہاتھ دیکھ کر بتایا تھا کہ اس کے حالات ۴۰ سال کی عمر کے بعد ٹھیک ہوں گے‘البتہ یہ باقی سارے بھائی بہنوں سے زیادہ علم حاصل کرے گا۔میں نے ناممکن قسم کے ظاہری حالات کے باوجود ایم اے کرلیا لیکن میرے حالات ۴۰ سال کی عمر کے بعد ہی ٹھیک ہونا شروع ہوئے۔ویسے ہاتھ کی لکیروں کے فیصلوں کے باوجود بھی بعض استثناء نکل آتے ہیں۔مثلاََ میرے ہاتھ پر قسمت کی لکیر‘دماغ کی لکیر سے ٹکرا کر رُک گئی ہے۔میں جب کسی بات پر اَڑ گیا تو بڑے سے بڑے فائدے کو بھی نظر انداز کردیا اور یوں کئی بار اپنا نقصان کیا۔دوسری طرف میری بیوی مبارکہ کے ہاتھ پر قسمت کی لکیر بہت واضح‘صاف اور روشن ہے۔سو میری خوش قسمتی در اصل میری بیوی کی مرہونِ منّت ہے۔اسی طرح میرے ہاتھ پر شہرت کی لکیر نہیں ہے۔اس کے باوجود اگر محبت کرنے والے چند دوست اچھے لفظوں میں اور مجھ سے برہم احباب مجھے ملامت کرکے بھی یاد کر لیتے ہیں تو اس تھوڑی سی ’’شہرت‘‘کا سبب ابا جی کے دو خواب ہیں۔ابا جی کے وہ دونوں خواب اپنی کتاب’’میری محبتیں‘‘سے یہاں نقل کئے دیتا ہوں:
’’میری پیدائش سے چند ماہ پہلے ابا جی نے یکے بعد دیگر دو خواب دیکھے تھے۔پہلا خواب یہ تھا کہ ایک بڑا اور گھنا درخت ہے جس کی شاخیں دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ابا جی اس درخت کے اُوپر‘عین درمیان میں کھڑے ہوئے ہیں۔یہ خواب سُن کر ابا جی کے ایک دوست روشن دین صاحب نے کہا کہ آپ کے ہاں بیٹا پیدا ہوگا جو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرا خواب یہ تھا کہ لمبے لمبے قد والے بہت سارے لوگ ہیں جو اپنے ہاتھ بلند کرکے ’’حیدر ۔۔۔۔۔۔حیدر ‘‘کے نعرے لگا رہے ہیں۔ان دونوں خوابوں کے چند ماہ بعد میری پیدائش ہوئی۔ابا جی نے اپنے مُرشد کو خط لکھا کہ بیٹے کا نام تجویز فرمادیں‘
مر شد کو ابا جی کے خواب کا علم نہیں تھا۔انہوں نے مجھے حیدر بنا دیا۔‘‘
جبر و قدر کا مسئلہ سُلجھانے کے لئے یا سمجھنے اور سمجھانے کے لئے بزرگانِ دین سے لے کر فلسفیوں تک ہر کسی نے اپنی اپنی سمجھ بُوجھ کے مطابق اظہارِ خیال کیا ہے۔جبر کی طرف جھکاؤ ہو تو قسمت کا لکھا اٹل قرار پاتا ہے اور تصوّف کی طرف رغبت بڑھتی ہے۔اختیار کی طرف جھکاؤ ہو تو عمل کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔یوں قسمت سے لے کر دعاتک سب باتیں غیر اہم ہو جاتی ہیں۔مجھے لگتا ہے کہ اصل حقیقت کہیں اِن دونوں تصوّرات کے بین بین ہے۔
میں ذات پات کا قائل نہیں ہوں لیکن مجھے نسلی حوالے کے اثرات کا تھوڑا بہت احساس ضرور ہوا ہے۔مثلاََ قریشی ہونے کے ناطے مجھے کسی روحانی سفر میں کسی مقام تک پہنچنے کے لئے دس قدم چلنا پڑتا ہے تو کسی دوسرے کو شاید بیس‘تیس یا چالیس قدم چلنے کے بعد وہاں پہنچنا نصیب ہوتا ہے۔اس کے باوجود اگر کوئی قریشی اس طرف پیش قدمی ہی نہ کرے تو وہ روحانیت سے محروم ہوتا چلا جائے گااور دوسرے اپنی کم رفتاری کے باوجود قربِ خداوندی میں آگے بڑھتے جائیں گے۔ہندؤں کے ذات پات کے تصوّر کو انسانی حوالے سے اب درست نہیں ماناجا سکتا لیکن اس میں بھی کہیں کوئی جزوی سچائی ضرور ہے ۔ انسانوں کی طبقاتی تفریق کو الگ رکھیں۔ہر انسان کے خود اپنے وجود کے بھی کئی طبقے بنے ہوئے ہیں۔دماغ برہمن کی طرح خود کو افضل سمجھتا ہے اور دل کے توسط سے باقی جسم سے رابطہ رکھتا ہے۔دائیں ہاتھ کے مقابلہ میں بایاں ہاتھ کمتر ہے۔جسم کے نیچے کے حصہ کو صاف رکھنے کے باوجود ہم خود ایک اچھوت ہی سمجھتے ہیں۔
اس قسم کے خیالات کی کشمکش اپنی جگہ۔۔۔۔میری معمول کی دعاؤں میں ڈیڑھ برس پہلے ایک اور اضافہ ہوا۔میں صبح‘شام تینوں قُل شریف تین تین بار پہلے ہی سے پڑھتا ہوں۔لگ بھگ ڈیڑھ سال پہلے میں سویا ہواتھا۔نیند میں ہی میں سورۃ فلق پڑھ رہا تھا۔اسی حالت میں آنکھ کھُل گئی تو میرے ہونٹوں پر سورۃ فلق اسی طرح جاری تھی۔جاگنے کے باوجود میرے ہونٹ اس وقت تک ہِلتے رہے جب تک میں نے سورۃ الناس مکمل کر کے درود شریف پڑھ نہیں لیا۔تب میں بیداری کے بعد پھر بیدار ہوا۔مجھے محسوس ہوا کہ اپنے اندر اور اپنے باہر کے دشمنوں اور جنّات سے محفوظ رہنے کے لئے مجھے سورۃ معوذتین کا وِرد کثرت سے کرتے رہنا چاہئے۔چنانچہ خاص طور پر پیدل ‘بس یا ٹرین سے سفر کرتے ہوئے ‘اپنی مخصوص دعاؤں کا وِرد مکمل کرنے کے بعد میں سفر کا بیشتر وقت سورۃ معوذتین کو بار بار پڑھنے میں صَرف کرتا ہوں۔ اس وِرد کے دوران مجھے کئی بار محسوس ہوا کہ میرے دشمنوں کے وار ضائع ہوتے جارہے ہیں یا اُنہیں پر اُلٹتے جا رہے ہیں۔باہر کے ہزاروں میل دور بیٹھے ہوئے دشمن مجھے اپنے رُوبروبے چارگی سے بیٹھے دکھائی دئیے اور اندر کے لاکھوں میل دور رہنے والے دشمن مجھے دُور بھاگتے دکھائی دئیے۔یہ محض کسی ادیب کی لفظ گری نہیں ہے۔میں نے حقیقتاََ اپنے باطن کے کشف سے بارہا ایسا دیکھا ہے۔
اب یہی دعا ہے کہ کہ ایسی ہی دافع البلیّات دعاؤں کے سائے میں زندگی کا یہ سفر آسانی کے ساتھ‘حفاظت کے ساتھ‘اور بے حد آرام و سکون اور اطمینان کے ساتھ مجھے اگلی دنیا میں لے جائے۔موت میرے لئے دُکھ کا مُوجب نہیں راحت کا مُوجب بنے۔ہجر کا احساس نہیں بلکہ وصل کا پیغام ہو اور وصل کا راحت بھرا پیغام تو جب بھی آئے‘عشّاق کی خوش نصیبی ہوتا ہے۔
***

شوخیاں ‘بچپنا

شوخیاں ‘بچپنا

اردو کے ایک بہت اچھے شاعر‘خاکہ نگار اور انشائیہ نگاراکبر حمیدی ہیں۔ہماری گہری دوستی ہے ۔ ایک بار ہم دونوں ڈاکٹر وزیرآغا کے گاؤں وزیر کوٹ ‘اُن سے ملنے کے لئے گئے۔ہم تینوں آغا جی کے کھیتوں کی سیر کر رہے تھے۔آسمان پر چھائے ہوئے بادل گہرے ہوتے جارہے تھے۔آغا جی اپنی فصل کے سلسلے میں فکر مند تھے کہ ابھی دو تین دن تک بارش نہیں ہونی چاہئے۔اکبر حمیدی کہنے لگے:
’’اگر ایسا مسئلہ ہے تو بادلوں کو روک دیتے ہیں۔بارش کرانا اور روکنا کون سے مشکل کام ہیں۔‘‘
ان کی اس بات پر آغا جی ہنسے تو اکبر حمیدی نے کہا
’’آغا صاحب! یہ تو معمولی سی بات ہے۔کیا آپ خود ایسے کام نہیں کر سکتے؟‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔
آغا جی نے ویسے ہی ہنستے ہوئے کہا’’اس قِسم کے سارے کام مجھ سے صرف اُس وقت ہوتے ہیں جب میرا معدہ خراب ہوتا ہے۔لیکن آج کل میرا معدہ بالکل ٹھیک ہے۔‘‘
یہ بات صرف آغا جی کی شگفتہ مزاجی کو ظاہر کرتی ہے وگرنہ حقیقت یہ ہے کہ ارتکاز کے بَل پر Rain makingاورRain Breakingکے سچے واقعات مجھے آغا جی نے ہی پڑھائے تھے۔میں نے انہیں ابا جی کا ایسا ایک واقعہ سنایا تھا اور انہوں نے مجھے اس نوعیت کی پوری دنیا کی سیر کرادی۔
یہاں جرمنی میں ایک بار مجھے صوفیانہ خیالات نے پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیا۔زندگی کی ہر سرگرمی بے معنی لگ رہی تھی۔جی چاہتا تھاکہ کسی ویرانے میں جا کر اﷲ اﷲ کرتے ہوئے زندگی بسر کروں۔پھر زندگی ہی بے معنی لگنے لگی۔میں نے دنیا کی بے ثباتی پر گفتگو شروع کر دی۔گفتگو گہری اور طویل ہونے لگی تو مبارکہ نے کہا’’ٹھہریں!میں آپ کی شوگر چیک کرتی ہوں‘‘۔۔۔۔جب شوگر چیک کی گئی تو اس کا لیول معمول سے خاصا زیادہ تھا۔شوگر کنٹرول کرنے والی دوا لینے سے حالت بہترہوئی تو زندگی بامعنی اور خوشی سے بھری ہوئی لگنے لگی۔تب میں نے شریر انداز سے مبارکہ سے کہا’’پہلے زمانے میں شوگر کی بیماری کی تشخیص کرنے‘اسے ماپنے اور کنٹرول کرنے کا کچھ پتہ نہ تھا۔شاید اسی وجہ سے بعض شہزادے اپنے محل چھوڑ کر جنگلوں میں چلے گئے۔بُرا ہو اِن جدید سہولیات کا جن کے باعث میں گوتم بُدھ بنتے بنتے رہ گیا‘‘
خانپور میں بنک کے شعبہ سے وابستہ دوستوں میں ارشد خالد‘ظفر اقبال ماچے توڑ اور صفدر صدیق رضی کا ذکر تو ’’میری محبتیں‘‘میں آچکا ہے۔بنک سے وابستہ ایک اور دوست نجم الحسن نجمی تھے۔شاعر تھے اور خوش باش قسم کے انسان تھے۔رحیم یارخاں کے قریب کے کسی گاؤں میں ایک شاعر عاشق قریشی رہتے تھے۔بہت ہی روایتی قسم کے شاعر تھے لیکن ان کا کمال یہ تھا کہ دھڑا دھڑ اپنے شعری مجموعے چھپوا رہے تھے۔ایک بار نجمی نے میری موجودگی میں اُن سے پوچھا کہ یار!تم اتنے مجموعے کیسے چھپواتے ہو؟۔۔۔عاشق قریشی نے بتایا کہ ارد گرد کے دیہاتوں کے بڑے زمینداروں سے پہلے سے طے کرلیتا ہوں۔پھرکتاب کا انتساب دو تین زمینداروں کے نام کرکے ان سے کتاب کی لاگت نکلوا لیتا ہوں اور جو کتاب بِکتی ہے وہ میرا منافع ہوتا ہے۔
’’ہائیں!تمہارے مجموعے بِکتے بھی ہیں؟‘‘نجمی نے مضحکہ اُڑانے والے انداز سے پوچھا۔
اس پر عاشق قریشی نے بڑی ہی صاف گوئی سے بتایا کہ چھ سات تھانے والوں سے اس کی دوستی ہے۔وہ سب اس سے پچاس‘پچاس جِلدیں لے لیتے ہیں اور تھانے آنے والوں کو تھوپ دیتے ہیں۔جو رقم ملتی ہے ‘آدھی آدھی کرلیتے ہیں۔
تب نجم الحسن نجمی نے کہا کہ یہ کرامت تو سُنی تھی کہ’’تُوں چوراں نُوں قطب بنانویں‘‘(تم نے اپنی نظر سے چوروں کو بھی قطب بنادیا)لیکن ابے سالے تُونے تو کمال کردیا ’’تُوں چوراں نُوں کتب پڑھانویں‘‘(تم نے چوروں کو مطالعۂ کتب پر لگا دیا ہے)۔
میری دُور کی نظر کمزور ہے۔پاکستان میں میری عینک کا نمبر -3.75تھا۔ایبٹ آباد میں یہ-3.50ہوگیا تھا اور جرمنی آکر چیک کرایا تو عینک کا نمبر-3.25ہو گیا۔تب میں نے بعض قریبی عزیزوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہمیں ہمارے بزرگوں نے زندگی بھر غضِّ بصر کی تلقین کر کرکے نظر کمزورکرادی۔لیکن ایبٹ آباد میں لیڈی ٹیچرز کی رفاقت سے اور یہاں جرمنی کے کھلے ماحول سے آنکھوں کا درست استعمال شروع کیا تو ان کی کم ہوتی ہوئی روشنی بحال ہونے لگی ہے۔ویسے یہ بات شوخی کی حد تک ہے وگرنہ ڈاکٹر نے میرے استفسار پر بتایا تھا کہ ایک عمر کے بعد دور کی نظر کا نمبر تھوڑا سا کم ہو جاتا ہے اور اس کے نتیجہ میں نزدیک کی نظر پر اثر پڑتا ہے۔یہ اور بات کہ میری دور کی نظر پہلے سے بہتر ہونے کے ساتھ نزدیک کی نظر بھی خدا کے فضل سے ابھی تک بالکل ٹھیک ہے۔
بچپن اور لڑکپن میں میرا سب سے پسندیدہ کھیل ’’گُلّی ڈنڈا‘‘ تھا ۔ گرمیوں کی چلچلاتی دھوپ میں بھی یہ کھیل کھیلنے کا اپنا ہی مزہ تھا۔تھوڑی سی کرکٹ بھی کھیلے تھے لیکن ہماری کرکٹ کے قواعد ہمارے اپنے تھے۔کپڑے کی کترنوں کو مِلا جُلا کر گیند تیار کی جاتی۔اسے پنجابی میں’’کھِدُّ و‘‘کہتے ہیں۔تختی سے بیٹ کا کام لیتے۔وکٹوں کی جگہ اینٹیں سجائی جاتیں تاکہ وکٹ گرنے کی نوبت ہی نہ آئے۔ بیٹس مین شاٹ کھیلنے کے بعد جتنی چاہے رنز بنا سکتا تھا۔’’کھِدُّ و‘‘کبھی قریبی جھاڑیوں میں گُم ہو جاتا تو بیٹس مین کے وارے نیارے ہو جاتے۔ایسے ہی ایک موقعہ پر میں نے مسلسل پندرہ رنز بنائے تھے۔پھر تھک گیا تھا اس لئے مزید رنز نہیں بنائے۔وگرنہ ایک شاٹ پر سنچری ہو سکتی تھی کیونکہ گیند جھاڑیوں سے ملی ہی نہیں تھی۔
رحیم یارخاں میں ہمارے قیام کے زمانے میں ایک بار میرے ننھال سے بے جی‘خالہ حبیبہ‘ماموں سمیع‘ماموں صادق ‘ماموں کوثر‘ ماموں ناصر ۔۔ ۔ بہت سارے عزیز آئے ہوئے تھے۔تب اباجی اور چاروں ماموؤں نے ایک تفریحی گراؤنڈ میں دوڑکا مقابلہ کیا۔یہ مقابلہ ابا جی نے جیت لیا تھا۔
جن دنوں میں بے جی(نانی جان)کے ساتھ سارے مذکورہ عزیز آئے ہوئے تھے‘انہیں دنوں ایک نیم دیوانے قسم کے میاں کالے خاں بھی آوارد ہوئے۔یہ ہمارے ننھال کے جاننے والے تھے۔امی جی کودعا یا آشیر واد دینے کے لئے آئے۔ایک بگل سا ان کے ہاتھ میں ہوتا تھا۔اپنا نام اس بگل پر’’کالے خاں ۔۔۔امام مہدی‘‘لکھوا رکھا تھا۔لیکن بیعت کسی کی نہیں لی۔ان کے بارے میں پتہ چلا کہ پیِروں کے مزاروں پر چڑھائی جانے والی چادریں اتار کر لے جاتے۔کوئی روکتا تو برہم ہو کر کہتے زندوں کو کپڑا ملتا نہیں اور تم مزاروں پر چڑھاتے پھرتے ہو۔مزاروں والے انہیں بھی کوئی پہنچا ہوا سمجھ کر چُپ کر جاتے۔ہمارے ہاں ایک دن رہے۔صبح اُٹھتے ہی کہنے لگے مجھے خدا نے کہا ہے:قالوبلیٰ قد جاء نا۔پھر اس کا پنجابی میں ترجمہ بھی کردیا ۔کالے خاں توں کدوں جانا ایں؟(کالے خاں!تم نے کب یہاں سے جانا ہے؟)اور پھر سب کو دعا دیتے ہوئے فقیرانہ شان کے ساتھ رخصت ہو گئے۔جاتے ہوئے بگل بھی بجاتے جاتے تھے۔
قرآنی الفاظ کے پنجابی استعمال کی ایک دلچسپ بات سید عطا ء اﷲ شاہ بخاری کے لڑکپن سے متعلق ہے۔کہیں پڑھا تھا کہ وہ لڑکپن میں امرتسر کے کسی معروف حکیم صاحب کے شاگرد بنے تھے۔حکیم صاحب کے مطب کے سامنے ہی ان کا گھر تھا۔گھر والے حکیم صاحب کے لئے(غالباََ حقہ کے لئے)دہکتے کوئلوں کا تسلا تیار کردیتے تھے اور کوئی شاگرد آکر وہ تسلا لے جاتاتھا۔ سید عطا ء اﷲ شاہ بخاری کو جب پہلی بار تسلا لانے کے لئے بھیجا گیا تو انہوں نے کسی کپڑے کے بغیر انگلیوں سے تسلے کے کنارے پکڑے ۔ظاہر ہے کہ لوہے کا تسلا خاصا گرم تھا۔ شاہ صاحب جلدی سے سڑک پار کرکے مطب کے تھڑے پر ہی تسلا رکھ کر کہنے لگے’’استاد جی! تصلیٰ نار حامیہ۔
ایسے ہی حکیم نورالدین صاحب کا یہ قصہ بھی مشہور ہے ۔کسی نے ان سے قولو قولاََ سدیدا کا مطلب پوچھا تو انہوں نے رواں پنجابی میں اسے یوں واضح کردیا۔قولو۔۔۔کہہ دے‘ قولاََ۔۔۔گَل (بات)‘سدیدا۔۔۔سیدھی سیدھی۔
کالے خاں کی بات سے بات کہاں جاپہنچی۔بات ہو رہی تھی ابا جی اور ماموؤں کی ریس کی۔ایک اور موقعہ پر ابا جی‘ماموں کوثر‘ماموں صادق ‘ماموں سمیع اور محلے کے بہت سارے احباب شامل ہوئے ۔فٹ بال میچ کھیلا گیا۔بچوں کو بھی ٹیموں میں شامل کیا گیا۔میں ابا جی کی ٹیم میں تھا۔مجھے ابھی کھیلنا تو آتا نہیں آتا تھا‘پھر بڑوں کے سامنے ویسے بھی کیا کھیل پاتا۔اس کے باوجود ابا جی باآواز بلند ’’شاباش۔۔۔حیدر شاباش۔۔۔‘‘کہہ کر میری ہمت بندھاتے رہے۔کک وہ خود مارتے اور مجھے شاباش دیتے جاتے۔اسی دوران مجھے پیشاب کی حاجت محسوس ہوئی۔میں گراؤنڈ سے باہر کسی مناسب جگہ پر پیشاب کررہا تھا۔تب بھی ابا جی کی آواز آئی:’’شاباش۔۔حیدر شاباش‘‘یہ ایسی سچویشن تھی کہ دونوں ٹیمیں دیر تک ہنستی رہیں۔
آپی مجھ سے ایک سال بڑی تھی۔میرے بعد پھر ایک بہن (زبیدہ)پیدا ہوئی۔یوں میں ابتدائی بچپن میں دو بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔(ویسے ہم پانچ بھائی اور پانچ بہنیں‘کُل دس بہن بھائی تھے۔ایک بہن شمسہ فوت ہوگئی تھی)محلے میں بچیوں کی تعدادزیادہ تھی۔چنانچہ میرے بچپن کی ابتدائی گیمز لڑکوں والی کم اور لڑکیوں والی زیادہ تھیں۔رحیم یارخاں کے ماحول میں تب یہ گیمز مقبول تھیں۔’’کوکلا چھپا کے جمعرات آئی اے‘‘۔’’مائی نی مائی تنور تپیا کے نائیں؟‘‘۔’’ککلی کلیر دی‘‘اور’’لکن میٹی‘‘۔
ذرا بڑے ہوئے تو بچیوں کی گیمز کی جگہ بچوں کی گیمز کا پتہ چلا۔’’پٹھو گرم‘‘۔’’چکّر بتی‘‘۔’’مِیرو ڈبہ‘‘اور’’گلّی ڈنڈا‘‘۔۔۔’’چکر بتی‘‘اور ’’میرو ڈبہ‘‘ملتی جلتی گیمز تھیں۔آجکل مغرب میں جو ’’بیس بال‘‘گیم مقبول ہے‘اسے’’چکر بتی ‘‘اور’’میرو ڈبہ‘‘کی بدلی ہوئی صورت سمجھیں۔’’پٹھو گرم‘‘میں نے بہت کھیلا لیکن سب سے زیادہ مزہ ’’گلی ڈنڈا‘‘کے کھیل میں آیا۔ایک بار ہم سارے عزیزوں نے یہاں جرمنی کے ایک پارک میں’’کوکلا‘‘کھیلا تو بہت مزہ آیا۔بعد میں ’’گلی ڈنڈا‘‘کھیلنے کا طے کیا تھالیکن ابھی تک پروگرام نہیں بن سکا۔
جب ہم لوگ خانپور شفٹ ہوئے تب بابا جی نے مجھے پہلوانی کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی ۔پہلوان تو میں کیا بنتا البتہ کبڈی کے دو تین داؤ بابا جی سے ضرور سیکھ لئے۔لیکن مجھے یہ کھیل اچھا نہیں لگا۔سچی بات یہ ہے کہ میں جسمانی لڑائی لڑنے کا اہل ہی نہیں ہوں ذہنی لڑائی اور ادب کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے ذہنی لڑائی لڑنے میں مجھے ہمیشہ مزہ آیا ہے۔اسی لئے ادبی پنگوں میں الجھا رہتا ہوں۔
میرے نزدیک ادبی پنگے تہذیب کے دائرے کے اندر ہوتے ہیں۔ بعض ادیبوں؟ میں جوگمنام’’گشتی مراسلہ بازی‘‘کی ’’خوبی‘‘ پائی جاتی ہے وہ ادب کے دائرے سے ہی نہیں ’’ادنیٰ درجہ کی تہذیب ‘‘سے بھی گری ہوئی حرکت ہے۔ایسے لوگ نہ ادیب ہیں نہ ادب سے ان کا کوئی جائز تعلق ہے۔یہ صرف جعلی اور چور قسم کے لوگ ہیں جو ادب کی دنیا میں گھُس آئے ہیں اور اپنے طرزِ عمل سے ادب میں ’’طوائف الملوکی‘‘پیدا کررہے ہیں۔سو ایسے لوگوں کو میں اپنا حریف ہی نہیں سمجھتا۔ہاں ا دب اور تہذیب کے دائرے میں رہ کر ادبی پنگا کرنا ایک اور چیز ہے اور ایسے تمام ذہین ادیب دوستوں سے پنگا کرنے میں بھی مزہ آتا ہے۔
پنگوں کے لفظ سے’’پِینگ‘‘یاد آگئی۔درختوں پر ’’پینگ‘‘ (جھولا) ڈال کرپینگ چڑھانے کا بھی ایک وقت تک شوق رہا لیکن ایک گیم ایسی ہے جو بچپن سے لے کر جوانی تک ‘شادی کے بعد بھی دیر تک کھیلی ہے۔یہ گیم ’’اشٹاپُو‘‘ہے۔چھ خانے بنا کر‘ایک ٹھیکری کے ساتھ وہ خانے ایک ٹانگ کے بَل پر پُگانے ہوتے تھے۔دواور گیمز بھی یاد آگئیں۔۔’’ماماں جمال خاں‘‘ اور’’ہرا سمندر‘‘۔۔۔یہ بھی بچپن کے مزیدار کھیل تھے۔
اِن ڈور گیمز میں ’’کیرم‘‘بھی تھوڑا سا کھیلا ہوں لیکن ’’لوڈو‘‘۔’’بارہ ٹہنی‘‘ اور ’’نوٹہنی‘‘(جسے ہماری سرائیکی میں ’’نَوں تَرین‘‘کہتے ہیں)میری پسندیدہ گیمز ر ہی ہیں۔اب بھی کبھی کبھار کھیل لیتا ہوں۔ ’’کانچ کی گولیاں‘‘۔’’اخروٹ‘‘اور’’تاش کے پتے ‘‘ ان تین گیمز سے بچپن میں ہی اتنا ڈرا دیا گیاتھا کہ یہ بہت بُری گیمز لگتی تھیں۔’’بہت ہی بُرے بچے ایسی گیمز کھیلتے ہیں‘‘۔۔۔۔۔کانچ کی گو لیاں اور اخروٹ تو کبھی نہیں کھیلا البتہ ایک بار چھوٹے بھائی اکبر نے تاش کے پتے کھیلنے کے گُر سکھا دئیے۔دوتین برس یہ گیم خوب کھیلی لیکن پھر مجھے محسوس ہوا کہ یہ بہت ہی واہیات گیم ہے۔اس میں ہارنے والا‘جیتنے کی اُمید لئے کھیلنے پر تُلا رہتا ہے اور جیتنے والا جیت کے نشے میں مزید کھیلتا چلا جاتا ہے۔یوں ساری ساری رات اس کھیل میں گزر جاتی ہے۔مجھے لگا کہ یہ گیم وقت کا ضیاع ہے۔چنانچہ پھر طبیعت خود ہی اس سے اُچاٹ ہو گئی اور اب میرے سامنے اس کھیل کی رونق بھی لگی ہوئی ہو تب بھی کھیلنے کو جی نہیں کرتا۔
لڑکپن کا ایک کھیل ۔۔۔۔جسے میں لکھنے سے پہلے ہچکچایا ہوں اور اب لکھنے لگا ہوں تو میرے چہرے پر خفیف سی شرمندگی والی مسکراہٹ ہے۔میں نے اپنی بہنوں کے ساتھ مل کر گڈی‘گڈے کے بیاہ کا کھیل بھی بہت کھیلا ہے۔اس میں بہنوں کی سہیلیاں بھی شامل ہوتی تھیں۔مہندی کی رسم سے لے کر رخصتی تک کی تقریب کی پوری پوری نقل کرتے۔
ایک بار میں رحیم یارخاں گیا ۔اپنے پرانے محلے میں گیا تو گلی وہی تھی لیکن گلی کے بیشتر مکان پختہ‘قد آور اور خوبصورت بن چکے تھے جو مکینوں کی خوشحالی کو ظاہر کر رہے تھے۔بُوا زیبُو کا گھر البتہ ویسے کا ویسا ہی کچا کوٹھا اور جھونپڑی نما تھا۔مجھے اس گھرکوجوں کا توں دیکھ کر اس گھر سے جُڑی ہوئی ساری یادیں مسکراتی‘گاتی اور اچھلتی‘کودتی دکھائی دینے لگیں ۔ہر منظر‘ہر یاد‘اس گھر کی چیزوں سے دِکھنے لگی تو میں اپنی خوشی کو نہ چھپا سکا اور بے اختیارانہ میں نے کہہ دیا کہ اس گھر کو جوں کا توں دیکھ کر مجھے بیحدخوشی ہوئی ہے۔تب بوا زیبو کی بڑی بہو نے دُکھی لہجے میں کہا:اگر اس گھر کو ایسے دیکھ کر آپ خوش ہوئے ہیں تو ہمیں بھی خوشی ہے ورنہ ہم تو یہی سوچتے رہتے ہیں کہ کب حالات بہتر ہوں اور گھر کو پکا کرالیں۔بُوا زیبو کی بہو کا وہ دُکھی لہجہ مجھے ابھی تک شرمندہ کرتا رہتا ہے۔
بالکل ابتدائی بچپن میں‘دوسری اور تیسری جماعت کے دورانیہ میں ہمارے دوستوں کا ایک حلقہ سا بن گیا تھا۔اس میں اکرم‘غوری‘افضل‘نظام دین اور امداد حسین کے نام مجھے ابھی تک یاد ہیں۔لیکن خانپور آنے کے بعد پھر ان میں سے کسی دوست کا کوئی اتہ پتہ نہ چل سکا۔میرے ذہن سے باقی چہرے تو دھندلا گئے لیکن اکرم کا چہرہ ہمیشہ واضح رہا۔لگ بھگ بیس ‘بائیس سال کے بعد کی بات ہے۔تب ہماری شوگر مل کی حبیب بنک برانچ کے مینجر ظفر اقبال ماچے توڑتھے۔ ایک دن انہوں نے مجھے کہا کہ رحیم یارخاں سے ایک نئے آفیسر مرزا افضل بیگ آئے ہیں ۔ایک دفعہ دورانِ گفتگو آپ کا ذکر آیا توانہوں نے اپنے بچپن کے ابتدائی دوستوں کے گروپ میں حیدر نامی دوست کا ذکر کیاجو یکایک لاپتہ ہو گیاتھا۔مجھے یہ جان کربیحد خوشی ہوئی ۔
افضل سے ملاقات ہوئی‘کچھ یاد نہیں آیا۔چہرے پہچان میں نہیں آئے۔البتہ واقعات کے بیان میں ہم آہنگی تھی۔ آخر افضل ایک دن اُس زمانے کی ایک گروپ تصویر لے کرآیا۔میں نے اکرم اور غوری کو فوراََ پہچان لیا۔تب افضل نے بتایا کہ جسے آپ اکرم کہہ رہے ہیں ‘یہ میں ہوں۔اس سے میں نے اندازہ کیا کہ نام کا ادل بدل بے شک ہوا لیکن میرا ایک اچھا دوست یہی تھا۔
’’لیکن یہ(اکرم یا افضل جو بھی ہے)تو بچپن میں بہت دُبلا پتلا اور لمبے قد کا تھا؟‘‘
میرے اس تذبذب پر افضل نے بتایا کہ’’دسویں جماعت کے بعد اس کا قد بڑھنا بند ہو گیا تھا‘‘۔
پھر میں نے اکرم‘غوری اور امداد کے بارے میں پوچھا تو افضل نے صرف غوری کے بارے میں بتایا کہ اچھی پوزیشن میں ہے۔اکرم کے بارے میں لہجہ درست نہ تھا اور امداد حسین (جو خوشخط تختی لکھنے کے باعث کلاس میں مشہور تھا)کے بارے میں اتنا بتایا کہ وہ کاتب بن گیا ہے۔میں اس کے تحقیر آمیز انداز سے یہی گمان کئے رہا کہ افضل کی ان دوستوں کے ساتھ اَن بَن ہوگی اس لئے ان کا ذکر سرسری اور اس انداز میں کر رہا ہے۔میں بچپن کی گمشدہ دوستیوں کے ملنے پر نہ صرف خوش تھا بلکہ خاصا پُر جوش بھی تھا۔لیکن ایک دو دن کے اندر میں نے افضل کے رویے میں سرد مہری سی محسوس کی تو میرا اپنا میٹر گھوم گیا۔وہ خود کو سماجی لحاظ سے افضل سمجھ رہا تھا جبکہ میں فقیری میں بادشاہی اوربادشاہی میں فقیری کرنے والا بندہ ہوں۔چنانچہ پھر میں نے افضل کو ایسے نظر انداز کردیاکہ شاید وہ خود بھی حیران ہوا ہوگا۔
ایک بار پھر میں رحیم یارخاں گیا تو وہاں ہمارا گھر اپنی اصلی حالت میں موجود ہونے کے باوجود اتنا خستہ اور جگہ جگہ سے ٹوٹ چکا تھا کہ میں کمروں میں جانے کی ہمت نہ کر سکا۔ایسے لگتا تھا جیسے کسی وقت بھی سارا گھر گرپڑے گا۔
بوا زیبو کے گھر‘افضل سے ملاقات کے تجربہ اور اپنے پرانے گرتے ہوئے گھر کو دیکھنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ یادوں کاتعلق گزرے ہوئے واقعات اور مقامات سے منسلک ہونے کے باوجود ہمارے اپنے اندرکی دنیا سے ہوتا ہے۔باہر کی دنیا میں بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہوتا ہے لیکن ہمارے اندر کی دنیا میں سارے واقعات‘سارے مقامات ویسے کے ویسے ہی آباد ہوتے ہیں۔
یہ ہماری یادوں کی دنیا‘ہمارے اندر کی دنیا بھی کتنی عجیب ہے!
***

علّتیں‘علالتیں

علّتیں‘علالتیں

ہر انسان میں کمزوریاں ہوتی ہیں۔مجھ میں بھی بہت سی کمزوریاں ہیں۔کسی زمانے میں غصہ جلد آجاتا تھا لیکن میری سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ میں اپنے دوستوں پر بہت جلد اعتبار کرلیتا ہوں۔میں خود اپنے دوستوں کے تئیں جتنا مخلص ہوتا ہوں ‘ان کے بارے میں بھی ویسا ہی تصوّر کرلیتا ہوں۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب دوست میرے تصور سے کم ‘بلکہ بہت کم نکلتا ہے توبجائے اپنے تصور اور اپنے رویے کو غلط سمجھنے کے اپنے دوست کو غلط سمجھ لیتا ہوں۔پوری زندگی اسی طرح گزری ہے اور ابھی بھی میرے رویے میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔عز ت‘شہرت اور دولت کی تمنّا ہر کسی کو ہوتی ہے۔مجھے بھی ہے۔۔۔۔۔۔لیکن عزتِ نفس کو مجروح کر کے ملنے والی ظاہری عزت ہو‘شہرت ہو یادولت ہو‘مجھے کبھی اس کی تمنا نہیں رہی۔
دسویں کے بعد جب میں نے نوکری کرلی‘تب میں دعا کیا کرتا تھا کہ الٰہی!بے شک مزدوری ہی کرتا رہوں لیکن مجھے ایم اے تک تعلیم حاصل کرنے کی توفیق ضرور دے ۔چلو لوگ یہ تو کہیں گے کہ بے شک مزدور ہے لیکن ایم اے تو کیا ہوا ہے۔۔۔ایم اے پاس مزدور۔۔کیا بات ہے!۔۔۔جب ایم اے کر لیا اور میں مزدور کا مزدور ہی رہ گیاتب میں نے خواہش کی کہ کچھ تو ترقّی کرلوں۔تب ہی مجھے شفٹ کیمسٹ بنا دیا گیا۔یہ آفیسر کیڈر کی جاب تھی۔لیکن میری تنخواہ بہت ہی کم تھی۔وہی مزدور کی حیثیت والی تنخواہ۔۔۔۔قلیل تنخواہ سے تنگ آکر ایک دن میں نے تمنّا کی کہ بندہ بھلے مزدور ہی ہو لیکن تنخواہ تو اچھی ہو۔یہ تمنّا اب جرمنی میں آکر یوں پوری ہوئی ہے کہ یہاں پھر سے مزدور ہو گیا ہوں لیکن پاکستان کے حساب سے تنخواہ مناسب ہے۔ان سارے تجربوں سے میں نے دو باتیں سمجھی ہیں۔ایک تو یہ کہ خدا سے اگر مانگنا ہے تو تھوڑا نہیں مانگو۔ہوس بھی ٹھیک نہیں ہے لیکن اپنے پَیروں کے برابر چادر ضرورمانگو۔جگجیت سنگھ کی گائی ہوئی ایک حمد کا شعر یاد آگیا ہے ؂
اور کچھ بھی مجھے درکار نہیں ہے لیکن
میری چادر ‘ میرے پَیروں کے برابر کردے
دوسری یہ کہ اﷲ میاں بھی شاید اس انتظار میں یا تاک میں بیٹھا ہوتا ہے کہ کب یہ تھوڑے کی تمنّا کرے اور اس کی آرزو پوری کردوں۔اسی لئے اب میں تھوڑے پر راضی نہیں ہوتا۔مثلاََ اگر کوئی لاٹری ٹکٹ ۱۰۰مارک سے ایک ملین مارک انعام تک کا ہے تو میں سب سے بڑا انعام ہی مانگوں گا۔دوسرے نمبر والا بھی نہیں مانگوں گا۔لاٹری نہیں نکلتی نہ نکلے لیکن مانگنا ہے تو سب سے بڑا انعام ہی مانگنا ہے۔ ویسے یہ صرف مثال سے واضح کیا ہے وگرنہ میں یہاں لاٹری کے چکر میں نہیں پڑا۔
جسمانی لڑائی میرے بس کا روگ نہیں ہے۔شاید اسی لئے ذہنی لڑائی لڑنے کی قوت مجھ میں زیادہ ہے۔لیکن افسوس ابھی تک مجھے کسی اچھی علمی لڑائی لڑنے کا موقعہ ہی نہیں ملا۔یورپ کی سطح پر ایسے لوگوں نے جن کے بے وزن شعری مجموعے میں نے بے نقاب کرائے‘جن کے افسانوں کی چوریاں شواہد کے ساتھ ظاہر کیں‘جن کی شعری چوریاں مکمل ثبوت کے ساتھ پیش کیں۔ان لوگوں نے اُن چوریوں اور جعل سازیوں کا جواب دینے کی بجائے میرے خلاف گمنام ’’گشتی مراسلہ بازی‘‘کانہایت غلیظ سلسلہ شروع کیا۔ظاہر ہے ایسی کسی خاتون یا اس کے اسی نوعیت کے چاہنے والوں سے لڑنا میرے بس کی بات ہی نہیں ۔ا س نوعیت کی غلیظ لڑائی کے لئے تو انہیں کے قبیلے کے ا فرادہی ان سے لڑ سکتے ہیں۔
ادبی چور اچکوں سے ہٹ کر‘ میں نے ماہیے کی بحث میں تھوڑی سی علمی لڑائی لڑی ہے۔ میرے ہتھیار مضبوط دلائل ہوتے ہیں۔لیکن مجھے یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ ہماری علمی ‘ادبی دنیا میں عام طور پر محض مضبوط دلائل کام نہیں آتے۔ایک مضمون کے جواب میں میرے مدلل جواب کو نظر انداز کردیا گیا۔لیکن جب میرے احباب میں سے ایک دوست نے مخالفین جیسے انداز میں انہیں جواب دیا تو باوجود اس کے کہ ان کے دلائل مضبوط نہ تھے ‘یار لوگ اس مضمون کے بعد ٹھنڈے پڑ گئے۔ اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ وقتی کامیابی کے لئے یہی گُر مناسب ہے۔اس کے باوجود میں جانتاہوں کہ میں خود اس گُر کو کبھی بھی استعمال نہیں کر سکوں گا۔شروع میں جب کوئی مخالفانہ مضمون آتا تھا تو میں غصے کے ساتھ کانپتا تھا اور جب تک جواب نہ لکھ لیتا تھا مجھے چَین نہیں آتا تھا۔لیکن جب سے میں نے سکہ رائج الوقت کو سمجھ لیا ہے مجھے اب زیادہ غصہ بھی نہیں آتااور مخالفین کی کسی واقعی اہم بات کا جواب تو ضرور دیتا ہوں مگران کی عام اور سطحی باتوں کی اب میں پرواہ بھی نہیں کرتا۔
میں مزاجاََ کنجوس نہیں ہوں لیکن اپنی ذات پر خرچ کرنے کے معاملے میں ہمیشہ سے کنجوس ہوں۔مجھے اچھی طرح سے یاد ہے ایف اے کا امتحان دینے کے لئے مجھے خانپور سے رحیم یارخاں جانا تھا۔ابا جی مجھے خود لے کر رحیم یارخاں گئے۔وہاں انہوں نے مجھے تھوڑی سی رقم دی کہ امتحان کے بعد کچھ کھا پی لینا۔مجھے امتحان گاہ تک چھوڑ کر ابا جی خانپور واپس چلے گئے۔امتحان کے بعد میں نے دو آنے کے چنے بھنوائے اور باقی ساری رقم لا کر ابا جی کو دے دی۔گھر کا خرچ میں نے کبھی اپنے ہاتھ میں نہیں رکھا۔آج بھی کسی ریستوران میں کھانا کھانے یا کافی پینے کی نوبت آجائے تو بھلے ادائیگی کوئی اور ہی کرے مجھے فضول خرچی کا احساس ہوتا رہتا ہے۔ میں کنجوسی اور فضول خرچی میں فرق سمجھتا ہوں۔اس رویے نے مجھے ادبی لحاظ سے ایک فائدہ پہنچایا ہے کہ میں کفایت لفظی سے کام لیتا ہوں۔یہ بھی میری عادت سی ہے۔مجھے اس کا اتنا زیادہ اندازہ نہیں تھا۔بس ایک ہلکا سا احساس تھا کہ جو کچھ کہنا ہے اسے مناسب اور کم سے کم لفظوں میں کہنا چاہئے۔ایک بار انڈیا سے شاہد ماہلی اور ڈاکٹر وسیم بیگم جشنِ غالب کے سلسلے میں جرمنی آئے تو ڈاکٹر وسیم بیگم نے میرے افسانوں کی ایک خاص بات مجھے یہ بتائی کہ بہت ہی کم سے کم الفاظ میں اپنی بات پوری کردیتا ہوں۔یہ بات انہوں نے غالباََ اپنے کسی تبصرے میں لکھی بھی تھی۔ تب مجھے خوشی ہوئی کہ میری کفایت شعاری کی کمزوری نے مجھے فائدہ پہنچایا ہے۔
میرے احباب بخوبی جانتے ہیں کہ مجھے ان کی طرف سے ادائیگی کی صورت میں بھی کسی ریستوران میں کھانا پینا اچھا نہیں لگتا۔جب کہ اپنے گھر پر احباب کی میزبانی سے مجھے ہمیشہ خوشی ہوئی ہے۔میرے اہلِ خانہ نے بھی مہمان نوازی میں کبھی کوئی کسر نہیں رہنے دی۔میرے مقامی احباب کے علاوہ ‘ وہ سارے شعراء اور ادباء بھی اس کی تصدیق کریں گے جو میرے ہاں آچکے ہیں۔
میری بیوی کا خیال ہے کہ میں انتہا پسند ہوں۔یا تو اتنا میٹھا بن جاؤں گا کہ دوسرا مجھے محبت ہی میں کھا جائے۔اور یا اتنا کڑوا ہو جاؤں گا کہ کسی کے حلق سے ہی نہیں اتروں گا۔مجھے اپنی اس کمزوری کا ادراک ہے۔میں خود کو بدلنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن جو عیب قدرتی طور پر ودیعت کیا گیا ہو وہ ختم نہیں ہو سکتا۔میرے بیٹوں کا کہنا ہے کہ میں کسی رشتہ دار پر جب بگڑتا ہوں تو حق بجانب ہوتا ہوں۔کسی سے بہت تنگ آکر رابطہ منقطع کر لیتا ہوں لیکن جب وہی رشتہ دار آکر جذباتی انداز میں منانے لگیں توفوراََ مان جاتا ہوں۔حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی دوست یا عزیز سامنے آکر رونے لگ جائے اوراپنی غلطی کا اقرار کرلے تو اس کے بعد میرے لئے ناراض رہنا تکبّر کے زمرہ میں آتا ہے۔کوئی میرے سامنے آکر رونے لگے تویہی بات مجھے بیحد خوفزدہ کردیتی ہے اورپھر میں سب کچھ بھول بھال جاتا ہوں۔ایک قریبی عزیز تو اتنی دفعہ شرارتیں کر چکے ہیں اور پھر اتنی دفعہ گڑگڑا کر معافیاں مانگ چکے ہیں کہ میرے لئے رشتہ داری ہی عذاب بنادی ہے۔نہ ان سے تعلق جوڑا جاسکتا ہے نہ پوری طرح توڑا جا سکتا ہے۔ذرا سی طاقت یا موقعہ ملتے ہی وار کردیں گے اور غبارے میں سے ہوا نکلتے ہی پھر رو رو کر منانا شروع کر دیں گے ۔چونکہ میرے بیٹوں نے ان کے سارے واقعات بچشمِ خود دیکھے ہیں۔شاید اسی لئے وہ میرے رویے کو میرا عیب کہتے ہیں۔
میری چھوٹی بیٹی مانو کے نزدیک مجھ میں جو عیب ہے وہ ذرا بعد میں بتاؤں گا۔پہلے یہ واضح کردوں کہ میری امی جی نے گھر کے کام کاج میں مَردوں کو زحمت نہیں دی۔اباجی ہوں‘یا باباجی‘میں یا میرے چھوٹے بھائی‘ہم میں سے کسی نے گھر کے اندر کے کام کاج نہیں کئے۔مثلاََ کپڑے یا برتن دھونا‘چارپائیاں اُٹھانا‘بستر بچھانا‘کھانا پکانا وغیرہ۔مبارکہ سے میری شادی ہوئی تو یہ بھی اپنی پھوپی کے رنگ میں رنگ گئی۔نتیجہ یہ نکلا کہ گھر کے کام کاج میں بیوی کا ہاتھ نہ بٹانے کی میری عادت مضبوط ہوگئی۔حالانکہ گھر کے کام کاج میں بیوی کا ہاتھ بٹانا چاہئے۔اور تو اور میری بڑی بیٹی رضوانہ بھی ماں جیسی ہی نکلی۔اس کی شادی ہو گئی تو گھر کے کام کاج کی ذمہ داری مانو پر آن پڑی اور اس نے بڑی چالاکی کے ساتھ گھر کے معمولات کو تبدیل کردیا۔چائے بنانے سے لے کربرتن دھونے تک بھائیوں کو بھی کام پر لگا لیا۔یوں اب میرے تینوں بیٹے ماشاء اﷲ گھر کے بیشتر کام کاج کر لیتے ہیں۔۔۔۔۔سو جب میں نے مانو سے پوچھا کہ آپ کے نزدیک میری سب سے بڑی کمزوری کونسی ہے؟تو اس نے فوراََ کہا آپ گھر کے کام کاج بالکل نہیں کرتے۔بات تو ٹھیک ہے لیکن اب عادت پختہ ہو چکی ہے۔
اس قسم کی عادتوں کو بیماریوں میں شمار کرنا چاہئے کہ ایسی عادت علّت کے زمرہ میں آتی ہے اور علّت و علالت کا قرب ظاہر ہے۔مجھے بیشتر عادتیں اور بیماریاں والدین سے ملی ہیں۔میرے ننہال میں شوگر کی بیماری موروثی ہے۔امی جی کو بھی شوگر کی شکایت تھی اور اسی وجہ سے ان کی وفات ہوئی۔سو مجھے شوگر کی شکایت ہے۔اسی طرح ابا جی کو بواسیر کی شکایت تھی ۔ہائی بلڈ پریشر کی تکلیف بھی تھی۔مجھے یہ دونوں بیماریاں بھی ایک عرصہ سے لاحق ہیں۔بس اتنا ہے کہ ابا جی کے مقابلہ میں مجھے ایسے وسائل میّسر ہیں کہ میں آسانی سے انہیں کنٹرول کئے رکھتا ہوں۔’’پرہیز علاج سے بہتر ہے‘‘پر ممکنہ حد تک عمل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔کبھی کبھی بد پرہیزی بھی ہو جاتی ہے۔ویسے جرمنی آنے کے بعد بلڈ پریشر بالکل نارمل ہو گیا ہے۔اس کے باوجود وقتاََ فوقتاََ چیک کرتا رہتا ہوں۔بواسیر کی جڑیں ختم تو نہیں ہوئیں لیکن یہ بیماری بھی اس حد تک کنٹرول میں آگئی ہے کہ گویا ہے ہی نہیں۔اسے خدا کا فضل کہنا چاہئے کہ بیماری ہوتے ہوئے بھی’’ نہ ہونے‘‘ جیسی ہے۔
بواسیر کی تکلیف سے یاد آیا اس کا ایک سادہ سا دیسی علاج یہ ہے کہ مولیوں کے بیج لے کر انہیں تھوڑا سا کُوٹ کردو چمچ صبح‘دوپہر‘شام پانی کے ساتھ پھانک لینے سے دو ہفتوں میں تکلیف ختم ہوجاتی ہے ۔آپریشن تو نہیں ہوتا لیکن جلن اور تکلیف بھی نہیں ہوتی۔جب میں شوگر مل میں ملازم تھا اس زمانے میں ایک بار میں نے لیبارٹری میں ایک خوراک پھانکی تو ایک دوست نے پوچھا کہ یہ کیاہے؟ساری تفصیل جاننے کے بعد پھر کہنے لگا اگر یہ بیج اس بیماری کے لئے مفید ہیں تو انہیں کُوٹنے کی کیا ضرورت ہے۔ثابت بیج بھی تو کھائے جا سکتے ہیں۔تب میں نے اسے کہا تھا کہ بھائی!یہ مُولی کا بیج ہے اس لئے احتیاط کرنا چاہئے۔خدانخواستہ پیٹ میں جاکر بیج سے مُولی اُگ آئی تو بواسیر کا مریض بے چارہ بیماری کے بجائے اپنے علاج کے ہاتھوں مارا جائے گا۔
میں پاکستان میں بھی پانی بہت پیتا تھا اس سے قبض کی شکایت نہیں ہوتی۔جرمنی آنے کے بعد جب شوگر کی بیماری لگی تب ڈاکٹر کی ہدایت کے پیش نظر میں نے پانی پینے کی مقدار میں اضافہ کردیا۔چاہے جرمنی کی دسمبر کی یخ سردیاں ہوں‘میں اپنے معمول کے مطابق دن میں کم از کم تین جگ پانی کے پی جاتا ہوں۔کسی شرط کے بغیر پانی کا ایک جگ تو میں آرام سے آدھ‘پون گھنٹے میں پی جاتا ہوں ۔پانی زیادہ پینے کے نتیجے میں مجھے بار بار پیشاب کے لئے جانا پڑتا ہے لیکن اپنی صحت کی خاطر اتنا کچھ تو کرنا ہی چاہئے۔پانی کثرت سے پینے کے باعث مجھے اپنے اندر کی صفائی کی بھی زیادہ ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔
بواسیر‘بلڈ پریشر اور شوگرکی بیماریاں مجھے اپنے والدین سے ملی ہیں تو میں انہیں اپنی وراثت سمجھتا ہوں۔ان ساری بیماریوں کے میرے حصے کے دُکھ بھی وہ آپ اُٹھا گئے ہیں کہ تب نہ تو ان کی تشخیص اور بروقت چیک کرنے کی سہولت تھی اور نہ ہی مناسب علاج میّسر تھا۔اور ان کے حصے کے بروقت تشخیص‘بروقت کنٹرول اور مناسب علاج معالجے کے سارے سُکھ مجھے مل گئے ہیں۔اگرچہ میں نے بغیر چینی کے چائے پینے کی عادت بنا لی ہے لیکن اب ’’شوگر فری‘‘گولیاں عام مل جاتی ہیں۔اور تو اور ’’شوگر فری‘‘ چینی بھی مل جاتی ہے۔اس سے اپنی مرضی کی مٹھائیاں تیار کرائیں‘کیک بنائیں۔گھر والے عموماََ میرے لئے ایسی چیزیں تیار کرتے رہتے ہیں۔گویا ورثے میں ملی ہوئی یہ بیماریاں تو اچھی بھلی عیّاشی ہیں۔میرے امی ‘ابو بھی عجیب تھے۔بیماریوں کے معاملے میں بھی میرے سُکھ کے لئے‘خود ہی سارے دُکھ بھوگ گئے۔
بخار ہونے کی صورت میں مجھے گھبراہٹ تو ہوتی ہے لیکن میں ٹمپریچر کی زیادتی کے باوجود بخار کو آسانی سے برداشت کرلیتا ہوں۔بخار کے اختتام پر مجھے عموماََ متلی سی ہونے لگتی ہے۔ایسے لگتا ہے جیسے کچا تھوک مسلسل نکلتا آرہا ہے۔مسلسل تھوکنا پڑتا ہے اور مجھے وحشت ہونے لگتی ہے۔امرت دھارا کے استعمال سے اس وحشت سے نجات ملتی ہے۔ایک عرصہ تک بخار کے ساتھ یہ مصیبت رہی اور میں بخار سے زیادہ بخار کے ختم ہونے سے گھبرایا کرتا تھا۔خدا کا شکر ہے اب ایک عرصہ سے بخار کے بعد متلی کی مصیبت سے جان چھوٹ گئی ہے۔
۱۹۷۳ء میں خانپور میں قیامت خیز سیلاب آیا تھا۔تب ہمارا مکان اس سیلاب کی نذر ہو گیا تھا۔مشرقی جانب کمرے کی دیوارگر چکی تھی۔خیال تھا کہ اس طرف نئی دیوار اُٹھا کر کام چلا لیں گے۔لیکن باقی دیواروں کی حالت بھی سیلاب کی مار سے کچھ مخدوش سی لگتی تھی۔اسی دوران بابا جی ایک کمرے اور برآمدے کے درمیانی دروازے کو اینٹ مار کر نکالنے لگے۔تب بابا جی کمرے کی طرف تھے۔اباجی اور میں برآمدے کی طرف تھے۔برآمدے کی مشرقی سائڈ والی دیوار سلامت تھی۔جبکہ کمرے کی مشرقی سائڈ والی دیوار گر چکی تھی۔میں دروازے کے قریب تھا۔۔۔۔۔ابا جی تھوڑا سا پیچھے تھے اور بابا جی کو روک رہے تھے کہ غلام حسین !ایسے مت کرنا۔لیکن باباجی نے اسی دوران ہی اینٹ سے دروازے کے اوپری حصّہ پر ضرب لگا دی۔ایک دھماکہ سا ہوا۔میں پیچھے پلٹا تو ابا جی کو باہر جمپ کرتے دیکھا۔باباجی کے بارے میں مجھے ایسے لگا جیسے وہ اندر ملبے کے نیچے آگئے ہوں۔ابا جی نے بعد میں بتایا کہ بابا جی نے تو مشرقی جانب چھلانگ لگالی تھی۔ابا جی کو ایک بار تو ایسے لگا کہ بیٹا گیا۔دل میں انّا ﷲ بھی پڑھ لیا۔ پھر انہوں نے مجھے آواز دی تو میں نے ملبے میں سے کہا کہ میں توٹھیک ہوں‘باباجی کا پتہ کریں۔تب ابا جی کو تھوڑی سی تسلی ہوئی ۔انہوں نے وہیں سے بتایا کہ بابا جی بھی خیر سے ہیں۔یہ سب کچھ کیسے ہوا؟اس کا تو کچھ پتہ نہیں‘ لیکن صورتحال یہ تھی کہ برآمدے کی چھت کے ساتھ ساتھ‘اس سے منسلکہ کمرے کا بیشتر ملبہ بھی مجھ پر آن گرا تھا۔لیکن ایسے طریقے سے کہ شہتیروں نے ایک دوسرے کو ٹیک دے کر اوپر آئی ہوئی کَڑیوں کو روک رکھا تھا۔جب سارا ملبہ ہٹاکر مجھے باہرنکالا گیا تو میں خود چل کر ساتھ والے ہمسائے چاچابگو کے گھر تک گیا۔میں کہہ رہا تھا میں بالکل ٹھیک ہوں۔لیکن بابا جی کا کہنا تھا کہ ابھی جسم گرم ہے اس لئے ایسا لگ رہا ہے۔ابا جی مجھے چارپائی پر لیٹنے کو کہہ رہے تھے۔جب میں چارپائی پر بیٹھا تو اندر کی ضربوں نے اپنے ’’ہونے‘‘کا احساس دلانا شروع کردیا۔تب مجھ پر گھبراہٹ سی طاری ہوئی۔اسی دوران دودھ اور دیسی گھی کو ملا کر گرم کر چکے تھے۔اسے پینے سے کچھ بہتر محسوس ہوا۔بعد میں ہسپتال بھی گئے لیکن دودھ اور دیسی گھی والا نسخہ زیادہ کارگر رہا۔
دودھ اور دیسی گھی سے ایک اور واقعہ یاد آگیا۔شوگر مل کی ملازمت کے دوران ایک بار رمضان شریف کا مہینہ تھا۔میری ڈیوٹی کا وقت ایسا تھاکہ افطاری ڈیوٹی پر ہی کرنا ہوتی تھی۔سو لیبارٹری میں ہم سارے لوگ افطاری کا انتظام کرلیتے تھے۔لیبارٹری میں نمک بھی اچھی کوالٹی کا ہوتا تھا۔اس دن کسی نے غلطی سے نمک جیسا کوئی اور کیمیکل لا کر رکھ دیا۔مالٹے کاٹ کر ان پر نمک چھڑک دیا گیا۔جب افطار کے وقت سب نے روزہ کھولاتو کھجور کے بعد بیشتر نے مالٹے کی طرف توجہ کی۔اس کے بعد جب مٹھائی اور پکوڑوں کی باری آئی تو دونوں چیزیں ہی پھیکی بلکہ بے ذائقہ لگ رہی تھیں۔جن ایک دو ساتھیوں نے ابھی مالٹے نہیں چکھے تھے‘وہ کہہ رہے تھے کہ مٹھائی بھی اچھی ہے اور پکوڑے بھی مزے کے ہیں۔لیکن باقی سارے ساتھیوں کو کچھ بھی محسوس نہیں ہورہا تھا۔تب ہمارے چیف صاحب یا لیبارٹری انچارج نے آکر چیک کیا تو پتہ چلا کہ نمک کا ہم شکل کوئی اور کیمیکل غلطی سے استعمال ہو گیا ہے۔یہ مرکری سے متعلق کوئی کیمیکل تھا۔اب نام یاد نہیں آرہا۔اس سے مجھے اور تو کوئی تکلیف نہیں ہوئی لیکن ذائقے کا احساس بالکل ختم ہوگیا۔ کئی قسم کے دیسی ٹوٹکے کرنے سے غالباََ بارہ گھنٹے کے لگ بھگ وقفہ کے بعد اس کیمیکل کا اثر زائل ہوا۔گھریلو ٹوٹکوں میں دودھ گرم کرکے اس میں دیسی گھی ملا کر پینا بھی شامل تھا۔اس تجربے سے مجھے ’’ذائقے‘‘کی اہمیت کا صحیح اندازہ ہوا۔ذائقے کا احساس نہ ہو تو لذیذ ترین چیز بھی بے معنی ہوجاتی ہے۔
شوگر مل اور لیبارٹری سے مہدی حسن یاد آگئے۔یہ ہمارے لیبارٹری کیمسٹ تھے۔شوگر مل کی سیاست کے حوالے سے ان کا ذکرپہلے بھی کر چکا ہوں۔حیدر آباد دکن سے آنے والے یہ دوست بہت ہی نفیس انسان تھے۔گفتگو کرنے کے بادشاہ تھے۔ ادب‘ سیاست‘ فلم ‘مذہب ۔ ۔۔۔ کسی موضوع پر بات ہو‘عمدہ گفتگو کرتے تھے۔ باقی موضوعات پر سب ہی کچھ نہ کچھ معلومات رکھتے تھے لیکن انڈین فلموں کے معاملے میں انہیں اتھارٹی سمجھا جاتا تھا۔تب میں ہی تھا جس کی معلومات پر وہ بھی حیران ہوئے۔
تب ٹی وی چینلزکا موجودہ سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا۔میں اُس زمانے میں دوسرے رسائل کے ساتھ فلمی رسائل بھی پڑھتا تھا‘ ویکلی’’مصوّر‘‘لاہور نے غلام اکبر کی ادارت میں ایک ہنگامہ خیز اور باغیانہ روایت آغاز کیا تھا۔پاکستانی فلموں پر بے لاگ تبصروں کے ساتھ انڈین فلموں کی کہانیوں اور ان کے بارے میں معلومات شائع کرنے کا سلسلہ ’’مصور‘‘میں بے حدپسند کیا جاتا تھا۔تب کہانی چوروں کو بے نقاب کیا جاتا تھا(افسوس کہ بعد میں کہانی چوروں نے مل کر غلام اکبر کو ’’مصورّ‘‘کی ادارت ہی سے فارغ کرادیا)یوں مجھے بہت سی فلموں کی کہانیاں اور ڈائیلاگ تک یاد ہو گئے تھے۔گانوں سے ریڈیو کے ذریعے اتنا رابطہ تھا کہ گانے کے بول کے ساتھ گلوکارکانام‘ فلم کا نام ‘گیت کار کا نام‘اور موسیقار کا نام بھی یاد ہوتا تھا۔ اب ایک طرف میری معلومات ایسی تھی کہ دورانِ گفتگو مہدی حسن بھی حیران ہوجاتے دوسری طرف میں یہ بھی کہتا تھا کہ میں نے کبھی کوئی فلم نہیں دیکھی۔مہدی حسن میری یہ بات نہیں مانتے تھے اور اندر کی بات میں نے انہیں بتائی نہیں تھی۔
خیر ۔۔۔یہ بات یونہی طویل ہوئی جارہی ہے۔اصل میں مجھے یہ ذکر کرنا تھا کہ مہدی حسن چائے پینے کے معاملے میں بہت نفاست دکھاتے تھے۔لیبارٹری میں چائے بنائی جاتی‘ان کی وجہ سے چینی بہت ہی کم ڈالی جاتی۔اس کے باوجود وہ ہمیشہ کہتے کہ یار!چینی زیادہ ہے۔
ایک بار میں نے اپنے ساتھی لال دین سے کہا کہ آج چائے میں بناؤں گا۔ساتھ ہی اسے بتا دیا کہ آج چینی بالکل نہیں ڈالیں گے۔چنانچہ بغیر چینی کے چائے تیار کی گئی۔میں نے خود مہدی حسن کو چائے پیش کی اورکہا کہ امید ہے آج آپ کو چینی مناسب لگے گی۔مہدی حسن نے چائے کی ایک چُسکی لی اور کہنے لگے پہلے سے بہت بہتر ہے لیکن میرے حساب سے ابھی بھی تھوڑی سی زیادہ ہے۔
ابے سالے!تیری افسری کی بھی اور تیری بھی ایسی کی تیسی۔۔۔۔اس سے کم اور کیا ہوگی؟
مہدی حسن میرے اندازِ گفتگو سے سٹپٹا گئے کیونکہ میں کبھی ایسے نہیں بولتا۔جب انہیں چائے میں چینی کی ساری حقیقت بتائی تو نہ صرف بے حد شرمندہ ہوئے بلکہ اس کے بعد ہم کچھ اور قریبی دوست ہوگئے۔یہ دوستی وقت اچھا گزارنے والی تھی۔باہمی اعتماد والی نہیں تھی۔اور اب میں خود بغیر چینی والی یا شوگر فری گولیوں والی چائے پیتا ہوں تو کبھی کبھی مہدی حسن یاد آجاتے ہیں۔
شوگر مل کے ماحول میں صرف مہدی حسن ہی ایسے تھے جن سے مختلف موضوعات پر نہ صرف گفتگو ہو سکتی تھی بلکہ اس گفتگو کا مزہ بھی آتا تھا۔ان کے بعد اظہر ادیب سے رابطہ ہوا ۔وہ اچھے دوست تھے لیکن ان کے ساتھ ایک حد تک ادبی یا پھر ذاتی باتیں کی جاسکتی تھیں۔یوں مہدی حسن کی اہمیت اپنی جگہ رہی۔پھر وہ شوگر مل کی نوکری چھوڑ گئے۔اپنے رشتہ داروں میں کہیں شادی کرکے سسرال کی زمینوں کی دیکھ بھال کرنے لگے۔اسی دوران ایک دن اچانک شوگر مل میں آگئے۔انہیں دیکھ کر‘ ان سے مل کر مجھے بے حد خوشی ہوئی۔میں ان کے ساتھ بیٹھنا اور گپ شپ کرنا چاہتا تھا۔لیکن مجھے اُس وقت ہلکا سا شاک لگا جب پتہ چلا کہ انہیں پٹرول کی ضرورت ہے۔ان دنوں پٹرول کی فراہمی کا مسئلہ بنا ہوا تھا۔سو مجھے کہا گیا کہ خانپور میں پٹرول نہیں مل رہا‘میں جا کر ظاہر پِیر سے پٹرول کا ایک کنستر لادوں۔ظاہر پِیر کو سڑکوں کا جنکشن سمجھیں۔یہ خانپور سے دس پندرہ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔میں پٹرول لینے چلا گیا۔جب واپس آیا تو مہدی حسن کے جانے کاوقت ہو گیا تھا۔اس کے بعد ایک زمانہ گزر گیا مہدی حسن سے کبھی ملاقات نہ ہوئی۔
۱۹۹۲ء میں جب میں ایبٹ آباد میں تھا‘ایک بار اسلام آباد گیا۔وہاں انڈین سفارت خانے سے انڈیا کا ویزہ لینے کے لئے لائن میں کھڑا تھا۔ایک موٹے سے شخص نے آکر مجھے مخاطب کیا:’’آپ حیدر قریشی ہی ہیں نا؟‘‘
’’جی‘‘میں نے مختصر سا جواب دیا۔
’’مجھے پہچانا؟‘‘ اُس شخص نے پھر پوچھا۔میں نے ایک ثانئے کے لئے اسے غور سے دیکھا او رپھر ’مہدی حسن‘ کا نعرہ لگا کر ان سے لپٹ گیا ۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مہدی حسن کبھی اتنے موٹے ہو سکتے ہیں۔جیسے شمی کپور کی ابتدائی فلموں والی جسامت اور آج کی ضخامت میں فرق ہے بالکل ویسا ہی فرق پہلے والے اور اب والے مہدی حسن میں تھا۔ مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ مہدی حسن اتنے موٹے ہو گئے ہیں۔
سفارت خانے سے فارغ ہو ئے تو مجھے ویزہ مل گیاتھا اور مہدی حسن کو انکار کر دیا گیا تھا۔حالانکہ میرا کوئی رشتہ دار انڈیا میں نہ تھا جبکہ مہدی حسن کی آبائی حویلی بھی وہاں تھی اور بہت سارے رشتہ دار حیدرآباد اورانڈیا کے دوسرے شہروں میں مقیم تھے۔بہر حال۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مہدی حسن کو میں نے ایبٹ آباد ساتھ چلنے کی دعوت دی ۔انہوں نے اپنی بہن یا کزن کو کوئی ضروری بات بتانا تھی۔اس لئے طے پایا کہ راولپنڈی کے اس ویگن اڈہ پر ملیں گے جہاں سے ایبٹ آباد کے لئے ویگنیں جاتی ہیں۔وقتِ مقررہ تک مہدی حسن وہاں نہیں پہنچے تو میں نے مزید انتظار نہیں کیا اور ایبٹ آباد چلا گیا۔یوں ہماری ملاقات ادھوری رہ گئی۔مجھے مہدی حسن سے ملاقات نہ ہو سکنے کا آج تک افسوس ہے۔لیکن کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ راولپنڈی جیسے شہر میں جہاں بسوں اور ویگنوں سے سفر کرنے والوں کو دیر سویر ہو سکتی ہے۔مجھے چاہئے تھا کہ میں مقررہ وقت کے بعد بھی ان کا انتظار کر لیتا۔اور پھر مجھے ایسے لگتا ہے کہ جیسے میں نے مہدی حسن کا مزید انتظار نہ کرکے ان سے پٹرول منگانے والی زیادتی کا بدلہ لے لیا تھا۔شعوری طور پر نہ سہی‘لا شعوری طور پر بھی تو ہم سے کمینگیاں سرزد ہو جاتی ہیں ۔
اپنی خامیاں آپ گنوانا مشکل کام ہے۔اپنے آپ کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ ہم میں کیا کمزوری ہے۔جب تک پتہ چلتا ہے تب تک عادتیں اتنی پختہ ہو چکی ہوتی ہیں کہ ان سے نجات حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔مجھے یہی صورت حال درپیش ہے۔اس کے باوجود اپنی بیوی سے اور اپنے بچوں سے پوچھنے کے بعد اپنی جو کمزوریاں سمجھ پایا ہوں‘لکھ دی ہیں۔
مجھے اونچائی سے اور دریا‘یا سمندر کے پانی سے ڈر لگتا ہے۔حالانکہ پانی زندگی کی بنیاد ہے اور بلندیوں کے حصول کے لئے انسان کیا کچھ نہیں کر گزرتا۔پہاڑ کی چوٹی تو دور کی بات ہے‘مجھے دس بارہ منزلہ عمارتوں سے نیچے جھانکتے ہوئے بھی وحشت ہوتی ہے۔ در اصل میں بچپن سے بہت ڈرپوک ہوں۔’’اندھیرے کی ماں‘‘سے ایک عرصہ تک بہت ڈر لگتا رہا۔امی‘ابو مجھے کسی شرارت سے روکنے کے لئے عموماََ آخری حربے کے طور پر ’’اندھیرے کی ماں آجائے گی‘‘کہہ کر ڈراتے اور میں شرارت سے باز آجاتا۔یہ تو بہت بعد میں پتہ چلا کہ’’اندھیرے کی ماں‘‘تو بڑی کام کی چیز ہے۔انسان کی پردہ پوشی جیسا نیک کام کرتی ہے۔
دوپہر کے وقت بھی اگر کبھی امی مجھے کہتیں کہ گھر کی چھت پر پڑی کوئی چیز لے آؤ تو میں بھری دوپہر میں بھی چھت پر جاتے ہوئے گھبراتاتھا۔کسی چھوٹے بھائی کو ساتھ لے لیتا۔گھر پر کوئی اور نہ ہوتا تو ڈرتے ڈرتے چھت پر جاتا اور وہاں سے آوازدیتا رہتا۔
’’امی !چھاج نہیں مل رہا۔کس طرف ہے؟۔۔۔۔۔۔۔‘‘
امی جی وہیں سے ہنس کر آواز دیتیں:
’’تُو بھی میری طرح ڈرپوک ہے۔دھیان سے دیکھ چھت پر ہی ہے‘‘
اور میں جیسے تیسے چھاج(یا جو کچھ بھی منگایا جاتا)لے کر چھت کی سیڑھیوں سے جلدی جلدی اترنے لگتا اور اترتے اترتے بھی کوئی نہ کوئی بات کرتا جاتا۔
تو صاحب!اندھیرا ہو یا اجالا۔۔۔۔میں تنہائی سے ڈرتا اور گھبراتا تھا۔ایک عمر کے بعد معلوم ہوا کہ گیان کی روشنی اسی تنہائی سے نصیب ہوتی ہے۔پَر خوف اور گناہ کے مرحلوں سے گزرنے کے بعد یہ منزل نصیب ہوتی ہے۔میں بھی گیان کی منزل کا راہی ہوں لیکن ابھی رستے میں ہوں اور شاید جان بُوجھ کر رستے میں ہوں کہ رستوں کا‘سفر کا اور سفر کی چھوٹی چھوٹی منزلوں کا اپنا مزہ ہوتا ہے۔
***

اَ ن دیکھے‘ پر جانے دوست

اَ ن دیکھے‘ پر جانے دوست

میری ادبی زندگی میں بہت سے دوست آئے۔کچھ نے چند قدم تک ساتھ نبھایا۔بعض سے لمبی دوستی نبھی۔کسی سے نباہ میں میرا سلیقہ کام آیا تو کسی سے نباہ میں اُس کی اپنی محبت کارگر رہی۔ادبی دوستوں میں اَن دیکھے دوستوں سے تعلق کی نوعیت عام دوستیوں سے خاصی مختلف ہوجاتی ہے۔میرے بہت سے اَن دیکھے دوست ہیں لیکن یہ میرے لئے اور میں ان کے لئے انجانے نہیں۔ایسے دوستوں کی فہرست خاصی طویل ہے تاہم ان میں سے بعض بہت زیادہ اہم دوستوں کا ذکر یہاں کرنا ضروری سمجھتاہوں۔
ایسے دوستوں میں سب سے پہلے نمبر پر مشہور جاسوسی ناول نگار ابنِ صفی کا نام آتا ہے۔میں نے غالباََساتویں جماعت سے انہیں پڑھنا شروع کیا تھا۔شروع میں جاسوسی سیریز کے ناول پڑھے۔ان میں کرنل فریدی‘کیپٹن حمید اور قاسم کے کردار مجھے بے حد دلچسپ لگے ۔ پھر عمران سیریز کے ناول پڑھے تو ان کا ایک الگ ذائقہ محسوس ہوا۔میں ابنِ صفی کے ناول اپنے شہر کی ’’تھری اسٹار لائبریری‘‘سے کرائے پر لاتا تھا اور دن میں بعض اوقات دودو ناول آرام سے پڑھ جاتا تھا۔خانپور میں میرے گھر سے یہ لائبریری تقریباََ دس ‘پندرہ منٹ کے پیدل فاصلے پر تھی۔میں ناول لیتے ہی پڑھنا شروع کردیتا تھا اور گھر پہنچنے تک اس کا آدھے سے کچھ کم حصہ پڑھ چکا ہوتا تھا۔رستے میں کبھی کبھار کسی سائیکل والے سے ٹکر ہوتے ہوتے رہ جاتی‘ گھر پر بھی ناول ختم کرنے کے بعد سانس لیتا تھا۔
عمران سیریز میں ایکسٹو کی ٹیم کے متوازی مجھے ٹی۔تھری بی یعنی تھریسیا کا کردار بہت اچھا لگتا تھا۔سنگ ہی کے کردار کی اپنی ایک الگ آن بان تھی۔میں آج بھی اگر کبھی بہت بوریت محسوس کروں اور کسی اچھی ادبی کتاب سے بھی بوریت دور نہ ہو توابنِ صفی کا کوئی ناول پڑھ لیتا ہوں۔ابنِ صفی سے پہلے مجھے کسی مصنف نے اس طرح سے نہیں جکڑا تھا۔سو ان سے غائبانہ طور پر محبت کا ایک تعلق بن گیا۔اسی لئے مجھے وہ ہمیشہ اپنے دوست محسوس ہوئے ۔ایسے دوست جو دوست ہونے کے باوجود رہنمائی کا کام بھی خاموشی سے کرتے رہے۔ اگرچہ میری تحریریں‘ اُن کے موضوعات اورمیدان سے بالکل الگ ہیں لیکن مجھے یہ اعتراف کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ میری نثر پر کہیں نہ کہیں ان کے اسلوب کا کوئی نہ کوئی اثر ضرور ہے۔ہماری ادبی دنیا نے ابنِ صفی کے ساتھ انصاف یا ناانصافی تو کیا کرنا تھی انہیں ادب کے زمرہ سے ہی خارج رکھا ہے جو ادبی جرم سے کم نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ابنِ صفی سے میرے جیسے سینکڑوں ادیبوں نے پڑھنے اور لکھنے کا سلیقہ سیکھا ہے۔اور ہماری ادبی دنیا کی کم ظرفی ہے کہ ابنِ صفی سے سیکھنے والوں نے بھی انہیں نظر انداز کیا ہے۔میری دلی آرزو تھی کہ مجھے ان کے ناولوں کا مکمل سیٹ مل جائے تو میں مربوط طریقے سے ان کے فن پر تحقیقی اور تنقیدی کام کروں۔حال ہی میں مجھے انگلینڈ جانے کا موقعہ ملا تو وہاں ابنِ صفی کی ایک عزیزہ اور لندن کی معروف افسانہ نگار اور کالم نگارصفیہ صدیقی تقریب کے دوران مجھے ملنے آئیں۔مجھے ان سے مل کر دوہری خوشی ہوئی ایک تو اس لئے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کو پڑھتے رہتے تھے ۔دوسرے اس لئے کہ ان سے ملاقات کے دوران ابنِ صفی کا مکمل سیٹ دستیاب ہونے کی امید بن گئی ہے۔کراچی میں مقیم ابنِ صفی کے صاحبزادے ڈاکٹر ایثار احمد صفی سے میرا رابطہ انہوں نے کرادیا ہے۔سو جودوست ادبی مباحث میں مجھ سے تنگ یا خفا ہیں ‘ان کے لئے خوشخبری ہے کہ میں ابنِ صفی کا مکمل سیٹ ملنے کے بعد شاید سال بھر تک بالکل اسی پراجیکٹ کا ہوجاؤں گا۔سو اس عرصہ میں مذکورہ سارے دوست میری واپسی تک اپنی فتوحات کے جھنڈے گاڑ سکتے ہیں۔خدا کرے مجھے یہ کام کرنے کی توفیق مل جائے!
میں نے بے روزگاری کے ایام میں تین ماہ کے لئے گوجرانوالہ میں ملازمت کی تھی۔تب تو امین خیال جی سے رابطہ نہیں ہوا تھا لیکن جیسے ہی ماہیے کی تحریک شروع ہوئی‘میرا امین خیال جی سے رابطہ ہوگیا۔ اس رابطے میں ماہیے کی محبت شامل تھی۔امین خیال جی اس لئے خوش تھے کہ پنجابی کی لوک شاعری اردو میں مقبول ہو رہی ہے۔میں اس لئے خوش تھا کہ پنجابی کے ایک اہم اورمعروف شاعر کی شمولیت سے اردو ماہیے کی اس تحریک کو تقویت ملے گی۔بے شک ماہیے کو تقویت ملی لیکن ہماری دوستی بہت جلد اس سطح سے اونچی چلی گئی۔جب امین خیال جی نے پنجابی اخبار ’’بھنگڑا‘‘ کا اردو ماہیا نمبر شائع کیا تب ان کے شاگرد اور پرانے دوست غلام مصطفی بسملؔ نہ صرف ان کے ساتھ تھے بلکہ ان کا دَم بھرتے تھے۔انہوں نے ماہیا نمبر میں اختلافی اداریہ لکھا۔میں نے بڑی نیازمندی کے ساتھ اس کے جواب میں اپنا موقف دلائل کے ساتھ واضح کرتے ہوئے فیصلہ انہیں پر چھوڑ دیا۔امین خیال جی نے وہ خط من و عن شائع کردیا۔اس پر بسمل صاحب نے جواب دینے کی بجائے امین خیال جی سے لاتعلقی اختیار کرلی۔نہ استاد کی استادی کا خیال کیا‘نہ پرانی دوستی کا پاس کیا اور نہ ہی علمی سطح پر دلیل کا جواب دلیل سے دینے کی ہمت کی۔تب امین خیال جی بہت دکھی ہوئے تھے۔اگرچہ بسمل صاحب نے پھر خود پسِ پردہ رہ کر مختلف لوگوں سے مجھ پر مختلف قسم کے حملے کرائے لیکن دلائل کی سطح پر ان کا بھی وہی حشر ہوا جو اس سے پہلے بسمل صاحب کے اپنے اداریے کا ہوچکا تھا۔تاہم مجھے ابھی تک یہ احساس ستاتا رہتا ہے کہ میری وجہ سے امین خیال جی اپنے ایک عزیز شاگرد اور دوست کو گنوا بیٹھے ہیں۔ دراصل امین خیال جی دوستی نبھانے والے دوست ہیں اسی لئے مجھے ان کے نقصان کا احساس ابھی تک تنگ کرتا رہتا ہے۔دوستی میں وہ اتنے بے لوث ہیں کہ فی زمانہ انسان کو اتنا بے لوث نہیں ہونا چاہئے۔
میری تحریروں کو امین خیال جی نہ صرف محبت کے ساتھ پڑھتے ہیں بلکہ میری تحریروں کے تراشے سنبھال سنبھال کر انہوں نے رکھ چھوڑ ے ہیں۔صرف میرے ہی نہیں‘ دوسرے دوستوں کے تئیں بھی ان کا رویہ ایسا ہی ہے۔میری ’’کھٹی میٹھی یادیں‘‘قسط وار چھپ رہی ہیں اور وہ ہر قسط پر مجھے اتنی داد دیتے ہیں کہ مجھے نئی قسط لکھنے کا حوصلہ مل جاتا ہے۔میرے سفرنامہ’’سُوئے حجاز‘‘کی ایک قسط سہ ماہی ’’شعرو سخن‘‘مانسہرہ میں چھپی تو انہوں نے مجھے ’’مستجاب الدعوات‘‘سمجھ لیا اور بعض مسائل کے حل کے لئے دعا کرنے کی تاکید کر دی۔تب میں نے انہیں لکھا کہ میں کسی ریاکارانہ انکساری کے بغیر لکھ رہا ہوں کہ میں بے حد گنہگار انسان ہوں۔اس کے باوجود خدا کی مِنّت کروں گا کہ آپ کی مشکلات دور کردے۔خدا جانے پھر ان کی مشکلات دور ہوئیں یا اور بڑھ گئیں۔
امین خیال جی سے ٹیلی فون پر بھی کبھی کبھی بات ہوجاتی ہے۔خطوط کے ذریعے تو رابطہ مستقل طور پر قائم ہے۔ان کے خط اتنے محبت بھرے ہوتے ہیں کہ بعض اوقات میں سچ مچ آبدیدہ ہوجاتا ہوں اورسوچنے لگتا ہوں کہ یہ میری کونسی نیکی ہے جس کے اجر کے طور پر خدا نے مجھے ایسی بے لوث اوربے غرض دوستی عطا کردی ہے۔امین خیال جی نے مجھے اپنی ذات کے لئے کبھی کوئی فرمائش نہیں کی لیکن اپنے دوسرے دوستوں کے لئے وہ ہمیشہ کہتے رہتے ہیں۔دوستوں کی کامیابیوں کے لئے وہ کوشش کرتے رہتے ہیں اور ان کامیابیوں پر پھر خود ہی خوش ہوتے ہیں ۔
تھوڑا عرصہ پہلے کی بات ہے ان کے ایک دوست نے ایک اور دوست سے ان کا تعارف یہ کہہ کرکرایا کہ یہ امین خیال ہے‘میرا دوست‘جس کے پچھلے پینتیس سال سے میرے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں۔اس پر دوسرے دوست نے کہا کہ کوئی اورتعارف ؟۔۔۔۔اس پر امین خیال جی کے دوست نے کہا: کیا پینتیس سالہ دوستی سے بڑھ کر بھی کوئی تعارف ہوسکتاہے!
میری ادبی ترقی جتنی بھی ہے اور جیسی بھی ہے یہ میرے دوستوں میں سے سب سے زیادہ امین خیال جی کی محبت ‘خلوص اور دعاؤں کا نتیجہ ہے۔
نذیر فتح پوری’’ اسباق ‘‘ پُونہ کے مدیر ہیں۔ان سے براہِ راست قلمی رابطہ تو بہت بعد میں ہواہمارے درمیان محبت کا پہلا غیر ارادی اور غیر مفاداتی رابطہ تب ہوا جب انہوں نے ’’اسباق‘‘کا ضخیم اور بڑے سائز کا سالِ اوّلیں نمبر شائع کیا۔یہ ۱۹۸۲ء کی بات ہے۔اس میں انہوں نے میرا ایک مضمون ’اوراق‘لاہور سے لے کر شائع کیا تھا۔’’جدید افسانے کا اصل مسئلہ‘‘کے عنوان سے میرا مضمون دراصل شہزاد منظر کے ایک مضمون کے جواب میں تھا۔اس کے بعد ۱۹۹۲ء میں ان سے رابطہ ہوا۔تب انہوں نے پہلے رابطہ پر ہی نہ صرف ’’اسباق‘‘میں میرا گوشہ چھاپنے کا پروگرام بنا لیا بلکہ انڈیا میں ماہیے کے درست وزن کورائج کرنے کے لئے میرا ساتھ دیا۔نہ صرف خود ماہیے کہے بلکہ اپنے دوسرے احباب کو بھی اس کے لئے تحریک کی۔اگرچہ انڈیا میں ماہیے کی برسات ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی کی ماہیے کی طرف آمد کے بعد شروع ہوئی تاہم اس برسات کے لئے بخارات نذیر فتح پوری کے ذریعے بننا شروع ہوگئے تھے۔نذیر فتح پوری کی شخصیت کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ وہ صرف پرائمری پاس ہیں‘اس کے باوجود شعر و ادب کے ساتھ ان کی وابستگی اور ان کی تخلیقی سرگرمیاں حیران کن ہیں۔تعلیم کسی تخلیق کارکو پالش تو کرسکتی ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ تخلیقی صلاحیتیں خدا کی طرف سے ودیعت ہوتی ہیں۔نذیر فتح پوری اس حقیقت کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔
احمد حسین مجاہد کے ماہیے ’’اوراق‘‘ لاہور میں شائع ہوئے تو میں نے ان کی تلاش شروع کی۔ان سے رابطہ ہوا تو بہت ہی محبت کرنے والے انسان لگے۔ان کی آمد سے ماہیے کی تحریک کو عروضی حوالے سے بڑی تقویت ملی۔یار لوگوں کا عام طور پر خیال ہے کہ میں جرمنی میں ہونے کے باعث کوئی بہت مالدارانسان ہوں ۔چنانچہ کئی اغراض کے بندے محبت جتاتے ہوئے آئے۔ایسے لجاجت آمیز او رمنت سماجت والے خط لکھے کہ میں ان کی طلب پر شرمندہ ہوگیا اور ان کی تھوڑی سی مدد کردینا ضروری سمجھا۔اُن غرض کے بندوں نے غرض پوری ہونے کے بعد ایسے آنکھیں پھیرلیں کہ میں اُن کے لجاجت سے بھرے خطوط دوبارہ پڑھ کر حیران ہوتا رہا۔ایک بار میرے پاس یہاں چند پاکستانی ڈاک ٹکٹ موجود تھے ۔میں نے ایسے ہی وہ ٹکٹ احمد حسین مجاہد کے خط میں ڈال دئیے۔دراصل انہیں میں وہاں سے پوسٹ کرنے کے لئے اپنے دوسرے خطوط بھیجتا رہتا ہوں۔شاید کچھ ان کا خیال تھا۔جواباََاحمد حسین مجاہد کا تھوڑی سی خفگی والا خط آیاکہ میں دوستی میں یہ خطوط پوسٹ کرنا افورڈ کر سکتا ہوں۔ٹکٹ واپس لیجئے اور آئندہ ایسی زیادتی مت کیجئے گا۔
احمد حسین مجاہد کے اس طرزِ عمل نے مجھے ’’غرض کے بندوں‘‘ اور محبت کرنے والے دوستوں کے فرق سے آشناکر دیا وگرنہ میں تو اس غلط فہمی میں مبتلا ہورہا تھا کہ شاید رابطہ کرنے والے بیشتر لوگ ’’اغراض‘‘کے باعث ہی محبت جتاتے ہیں۔احمد حسین مجاہد ایک معقول سرکاری عہدے پر فائز ہیں۔بنکنگ کے شعبہ سے وابستہ ہے۔ان کی مصروفیات کا مجھے اندازہ ہے۔اس کے باوجود میں انہیں تھکاتا رہتا ہوں۔ہر رسالے کے ماہیا نمبر میں ان کا براہِ راست یا بالواسطہ اہم کردار شامل رہاہے۔رسالہ’’گلبن‘‘کے غزل نمبر کے لئے میرابہت سارا مطلوبہ میٹر اور اس کے علاوہ بھی بہت سارا اہم میٹر مجھے فراہم کیا۔یہ خاصا محنت طلب کام تھا۔انہوں نے نام کی پرواہ کئے بغیر کام کیا اور نام میرا ہی ہوا۔میری غلطی کہ اپنی بہت زیادہ مصروفیات کے باعث اداریہ میں ان کا شکریہ تک ادا کرنا بھول گیا۔لیکن مجال ہے انہوں نے ہلکا سا شکوہ بھی کیا ہو۔حالانکہ یہ’’شکریہ‘‘ان کا کم از کم ادبی حق تھا۔
احمد حسین مجاہد ماہیے کے معیار کے سلسلے میں متفکر رہتے ہیں اور مجھے اس سلسلے میں توجہ بھی دلاتے رہتے ہیں۔ان کے ٹکٹ والے تجربے سے ملتا جلتا ایک تجربہ ترنّم ریاض سے رابطے پر پیش آیا۔ان سے رابطہ ان کی ماہیا نگاری کے باعث ہوا۔دہلی میں رہنے والے کسی ماہیا نگار کے ہاں پنجابی مزاج سے لبریز ماہیے ملنا حیران کن بات تھی۔تب ترنّم ریاض نے وضاحت کی کہ وہ اپنے والدین میں سے ایک کی طرف سے لاہوری پنجابی اور ایک کی طرف سے کشمیری ہیں۔تب میری حیرت تو دور ہوگئی لیکن خوشی برقرار رہی۔میں نے انہیں انڈیا کے دوستوں کے لئے اپنی ڈاک آگے پوسٹ کرنے کے لئے بھیجی‘ ساتھ ہی انہیں لکھا کہ کہ آپ کو جلد ہی ڈاک کے جملہ اخراجات بھیج دوں گا‘اس پر ایسا بگڑیں کہ باقاعدہ خفا ہوگئیں اور مجھ سے’’سوری‘‘ کہلوا کر پھر ٹھیک ہوئیں۔تب میں نے اندازہ کیا کہ یہ احمد حسین مجاہد اور ترنّم ریاض کہیں روحانی طور پر بہن بھائی ہیں۔
ترنّم ریاض بہت ہی اچھی خاتون ہیں۔افسانے لکھتی ہیں۔تھوڑی بہت نظمیں بھی لکھی ہیں‘لیکن ماہیا نگاری میں تو انہوں نے کمال ہی کردیا ہے۔میری تحریروں کی اتنی فین ہیں کہ مجھے ’’پِیرومُرشد‘‘کہہ کر شرمندہ کرتی رہتی ہیں۔جب انہوں نے میرے ڈاک کے اخراجات لینے سے بھی انکار کردیا تب میں نے بہانے سے انہیں کہا کہ’’مجھے دلی میں کوئی ایسا شریف نوجوان ڈھونڈ دیں جو ادب سے شغف بھی رکھتا ہو اور میرے ادب سے متعلق بعض کا م بھی وہاں کردیا کرے۔جس میں کتابوں اور رسالوں کی ڈسپیچنگ بھی شامل ہوگی‘‘۔بی بی نے صاف جواب دیا ’’فی الحال دلی میں مجھ سے زیادہ شریف کوئی نہیں ہے۔ جب مجھے خود سے زیادہ کوئی شریف مل گیا ‘آپ کو بتا دوں گی‘‘
پروفیسر ریاض دلی کے اقتدار کے کوریڈورز میں اپنی ایک اہمیت رکھتے ہیں۔لیکن وہ اقتدار کے مقابلہ میں تخلیقی کام کی اہمیت کو نہ صرف مانتے ہیں بلکہ اسی وجہ سے اپنی اہلیہ ترنّم ریاض کی حوصلہ افزائی بھی کرتے رہتے ہیں۔جب مجھے اپنے طور پر پروفیسرریاض کی سیاسی اہمیت کا علم ہوا تو میں نے ترنّم ریاض کو لکھا کہ اب تو آپ کو ’’بی بی جی!‘‘لکھنا پڑے گا۔تب جواب آیا مجھے ایسا مت لکھئے گا۔آپ کے ملک کی بی بی(بے نظیر بھٹو) کا یہ حال ہو اہے کہ وہ وطن واپس جانے کی پوزیشن میں ہی نہیں ہیں۔ سو مجھے میرے وطن میں ہی رہنے دیں۔بی بی جی مت لکھیں۔
’’اردو دنیا‘‘جرمنی کے دوسرے شمارہ(دسمبر ۱۹۹۹ء)میں ترنّم کی ایک تصویر شائع ہوئی۔ رسالے کے ایڈیٹرارشاد ہاشمی ملے تو ایک دوست کا حال بتانے لگے۔دوست نے رسالہ لیا ۔باہر سے الٹ پلٹ کر دیکھا۔اندر کا صفحہ کھولا اور پھر اسی صفحہ کا ہی ہورہا۔ موصوف بس ترنّم ریاض کی تصویر کو ہی دیکھے جارہے تھے۔ارشادہاشمی انہیں ہوش میں واپس لائے کہ بھائی !رسالہ ابھی آگے بھی ہے۔تب وہ تھوڑا سا خفیف ہوئے اور ورق اُلٹنے لگے۔ویسے تو ’’اردو دنیا‘‘نے بہت اچھی اچھی تصویریں چھاپی ہیں تاہم ترنّم ریاض‘فرزانہ خان نیناںؔ ‘فرحت نواز‘کوکب اختر اور ریحانہ قمر کی تصویریں بلا شبہ خواتین کی خوبصورت تصویروں میں شمار کی جاسکتی ہیں۔
ڈاکٹر رضیہ حامد بھوپال کی ایک اہم ادبی شخصیت ہیں۔دہلی سے ان کا ایک ادبی رسالہ’’فکر وآگہی‘‘شائع ہوتا ہے۔جس کے خصوصی نمبروں کی خاص اہمیت بنتی ہے۔میری کتاب ’’میری محبتیں‘‘ان کے ہاتھ لگی اور بے حد پسند آئی۔مجھے ان کا جو توصیفی خط ملا اس نے ان کی حوصلہ افزائی سے شرابور کر دیا۔ بے ساختہ لکھی گئی ایسی چند سطریں جو کئی مضامین پربھی بھاری ہیں۔صرف پہلی سطر سے ہی ان کی کیفیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے:’’میری محبتیں کئی مرتبہ پڑھ چکی ہوں اور یہی حال رہا تو میں اس کی حافظ ضرور ہو جاؤں گی‘‘
ڈاکٹر رضیہ حامد کا ادارتی کام ہو یاتصنیف وترتیب و تدوین کا۔۔۔ ، وہ سکہ رائج الوقت کی بجائے اپنے اصل موضوع پر سنجیدہ توجہ مرکوز رکھتی ہیں۔انہوں نے اپنے والد مرحوم کے حوالہ سے محبت میں گندھا ہوا مختصر مگر بھرپور کام کیا ہے۔مجھے لگا کہ میں نے ’’میری محبتیں‘‘ میں جو چند چراغ جلائے تھے،ان کے نتیجہ میں حقیقی اور محبت کے رشتوں کے مزید چراغ جلنے شروع ہو گئے ہیں۔ آج کے عہدِ ناسپاس میں جب قریبی رشتے ٹوٹ پھوٹ کی تاریکی کا شکارہورہے ہیں،ضروری ہے کہ ان رشتوں کی اہمیت کو قلبی حوالوں سے روشن کیا جائے۔
میرے تئیں ڈاکٹر رضیہ حامد بہت زیادہ خلوص اور تعلقِ خاطر رکھتی ہیں۔ان کے شوہر حامد صاحب اور ان کے ساحبزادے عامر میاں سے بھی میرا رابطہ رہتا ہے۔میں اس اخلاص اور محبت کی تفصیل یہاں درج نہیں کر سکتا کہ اس کے لیے تو ایک پورا مضمون درکار ہوگا،تاہم یہ حقیقت ہے ڈاکٹر رضیہ حامد کی حوصلہ افزائی میرے لیے بڑی تقویت کا باعث بنتی رہتی ہے۔اللہ انہیں ہمیشہ خوش رکھے۔
رؤف خیر بہت اچھے دوست ہیں۔ایک بار ان کا خط آیا تو ان سے رابطہ ہوا۔پھر یکایک رابطہ ٹوٹ گیا۔میں نے کافی انتظار کے بعد دوستانہ خفگی کے ساتھ انہیں خط لکھا۔اس کے جواب میں انہوں نے جو خط لکھا اُس سے مجھے بڑی دلی تقویت ملی۔ حالانکہ رؤف خیر نے میری بعض کتابوں کے مطالعہ کے بعد مجھے اپنے خوبصورت تاثرات سے خاصا حوصلہ دیاہے۔ تاہم یہ خط اتنا خوش کرنے والا ہے کہ میں اس کا ایک حصہ یہاں درج کرنا چاہتا ہوں کہ اس میں سے رؤف خیر کی محبت کے ساتھ بہت ساری دوسری اَن دیکھی ادبی محبتوں کا بھی انکشاف ہورہا ہے۔خط تاخیر سے لکھنے کے اسباب بیان کرتے ہوئے ایک سبب یہ بیان کیا:
’’حکومتِ مغربی بنگال کی دعوت پر کلکتہ گیا جہاں ٹیپو سلطان صدی تقاریب کے سلسلے میں ایک کُل ہند مشاعرہ ۳؍مئی کو منعقد ہوا۔وہیں ماہیا نگاروں سے ملاقاتیں رہیں۔فراغ روہوی‘ضمیر یوسف‘نسیم فائق‘نوشاد مومن‘محسن باعشن حسرت وغیرہ وغیرہ سب آپ کے عشق کے گرفتار نکلے‘یعنے ؂
ہم ہوئے ‘تم ہوئے کہ مِیرؔ ہوئے
اُن کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے
آپ پر بڑا رشک آتا ہے کہ آپ رہتے کہاں ہیں اور کہاں کہاں اپنے چاہنے والے پیدا کر رکھے ہیں‘‘
ایسی وضاحت کے بعد کون کافر رؤف خیر سے ناراض رہ سکتا تھا۔ویسے مِیرؔ کا شعر مجھ پر فِٹ کرکے رؤف خیر نے کچھ اچھا نہیں کیا کیونکہ اس میں زلف کا ذکر آتا ہے اور میں تو کب کا ’’فارغ البال‘‘ہوچکا ہوں۔
کلکتہ  کا  جو  ذکر  کیا  تو  نے    ہم نشیں
اک تِیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے
کلکتہ کے کچھ اور دوست بھی مجھے یاد آرہے ہیں۔اختر بارک پوری‘شمیم انجم وارثی‘احمد کمال حشمی‘کچھ اور نام فی الوقت بھول رہا ہوں۔یہ سب بھی اَ ن دیکھی محبت کے زمرے میں شامل ہیں۔خدا سب کو خوش رکھے۔یہاں کسی فلمی گیت کا ایک شعر یاد آگیا ہے ؂
پیار جھوٹا نہ ہو ‘ پیار کم ہی سہی
ساتھ دے تو کوئی‘ دوقدم ہی سہی
مانسہرہ سے ایک دن مجھے ایک خط ملا۔کوئی جان عالم صاحب تھے۔ایک سہ ماہی رسالہ’’شعرو سخن‘‘ کے نام سے جاری کیا تھا۔ مجھ سے تعاون چاہتے تھے۔میں نے انہیں اپنی ایک دو کتابیں فراہم کردیں۔چند تخلیقات بھیج دیں۔سالانہ چندہ بھی اداکردیا لیکن یہ صاحب تو جان کو آگئے۔میں نے یہی سمجھا کہ رسالہ کیلئے مزید چندہ درکار ہوگا۔لیکن پھر پتہ چلا کہ رسالے کا چندہ تو کہیں رستے میں ہی رہ گیا ہے ۔جان عالم میرے خاکوں اور افسانوں سے بہت خوش تھے۔شاعری بھی انہیں پسند تھی لیکن میری نثر کی بہت تعریف کرنے لگے۔اسی دوران میں نے اپنے سفرنامہ’’سُوئے حجاز‘‘کا ایک باب انہیں اشاعت کے لئے بھیجا ۔ساتھ ہی لکھا کہ اسے سہولت کے ساتھ چھاپ سکیں تو چھاپیں ورنہ بیشک رہنے دیں۔دراصل میرے اس سفرنامہ میں از خود بہت ساری ’’بریلویت‘‘آگئی تھی اور بعض دوستوں کی دل شکنی کا بھی خدشہ تھا۔جان عالم نے وہ قسط چھاپ دی اور ہر طرح سے خیروعافیت رہی۔
یوں جان عالم سے دوستی میں فکری مکالمہ شروع ہوا۔میں حیران ہوا کہ جان عالم نے کم عمری میں ہی کتنا سفر طے کر لیا ہے۔یہ نوجوان روحانیت کی دنیا سے گزرتا ہواسوالات کی دنیا میں آ گیا۔سوال اُٹھتے رہے اور اس کی جستجو بڑھتی رہی اور جان عالم کی جان یقین اور گمان کے بیچ اَٹکی رہی۔کسی سے سوال کرتے ہوئے بھی ڈرتا کہ کہیں کوئی جواب دینے کی بجائے فتویٰ ہی نہ صادر کردے۔کم ظرف لوگ تو ماہیے کی بحث میں بھی فتویٰ صادر کرنے سے باز نہیں آئے۔جان عالم کے پاس تو ویسے بھی بڑے تیکھے سوال تھے۔اسی دوران اسکی زندگی کئی زاویوں میں بٹتی گئی۔ اچھائی اور برائی کے چکر میں ہی خواہشوں کا سفر شروع ہوگیا۔لوگ ‘ آئے‘ گئے۔۔۔۔کچھ زخم‘ کچھ یادیں‘۔۔۔احساسِ محرومی‘۔۔۔احساسِ نارسائی۔۔۔ سب جمع ہوتا رہا۔
پھر اس نے سر سید احمد خاں‘مولانا اسلم جیراج پوری‘مولانا عبداﷲ چکڑالوی‘مولانا غلام احمد پرویزجیسے قرآنی فکر کے داعیوں کو پڑھا۔اسے لگا کہ یہاں تو ہر شے کا منطقی جواب دیا جارہا ہے۔سوال مرتے جارہے ہیں۔غیر محسوس طریقے سے جستجو کے ساتھ روح کو بھی ما را جارہا ہے۔چنانچہ جان عالم مادیت پرست افکار والی پُر کشش تفاسیر کے سحر سے بھی نکل آیا اور پھر اسے لگا کہ جنہیں میں نے سوال سمجھا تھا وہ توسرے سے سوال تھے ہی نہیں۔سوال تو وہ ہوتے ہیں جن کے پیچھے جہانِ حیرت ہو۔ یوں حیرت کی تلاش میں تصوف کی طرف راغب ہوا۔اور پھر تصوف کی دنیا سے بھی نکل آیا۔اس کے تجربے کے مطابق ہر انسان کے اندر ایک صوفی موجود ہے بس اسے تخلیے کی ضرورت ہوتی ہے ۔لیکن یہ بھی ہے کہ تصوف درحقیقت ہمیں صرف سفر کی طرف Stimulateکرتا ہے‘خود سفر نہیں ہے۔ہم mediumکو منزل سمجھ کر رستے میں رُک جاتے ہیں۔ جان عالم کے نزدیک تصوف کی شان یہ ہے کہ دنیا کے اند ر رہتے ہوئے دنیا سے کاٹ کررکھ دے۔جیسے حضرت علیؓکا تِیر نماز کے دوران نکالا جاتا ہے اور انہیں پتہ ہی نہیں چلتا۔اب عالم یہ ہے کہ جانِ عالم کہیں بھی نہیں ہے اور ہر جگہ تھوڑا تھوڑاموجود بھی ہے۔اس سارے سفر کے نتیجہ میں مطالعہ ء قرآن اور مطالعہ ء حدیث کو اس نے حرزِ جاں بنالیا ہے۔ایسا شخص جو اپنے ارد گرد کے ڈر سے کسی سے سوال پوچھنے کی ہمت نہ رکھتا ہو ‘کیا اُس سے یہ سارے بھید دوستی کی گہری حد تک گئے بغیر اگلوائے جاسکتے تھے؟اور کیا محض ایڈیٹر اور رائٹر کے رشتے سے ایسا فکری مکالمہ کیا جاسکتا تھا؟مجھے خوشی ہے کہ ایک ایسا شخص میری تحریروں کا فین ہے جس کے فکری سفر کے باعث میں خود اس کا فین ہوں۔یوں بھی ہم اپنے اپنے فکری اسفار میں کہیں آس پاس سے ضرور گزرتے ہیں۔اسی لئے اس نوجوان کی دوستی سے مجھے ایک الگ سی خوشبو آتی ہے۔
ماہیے کی بحث چٹخی تو راولپنڈی سے مجھے تین دوست یکے بعد دیگرے ملے۔عارف فرہاد‘محمد وسیم انجم اور اختر رضا کیکوٹی ۔ ۔ ۔ عارف فرہاد تخلیقی لحاظ سے زیادہ فعال ہیں تاہم مجھے ان تینوں دوستوں سے خلوص کی ایک جیسی مہک آتی ہے۔عارف فرہاد نے راولپنڈی سے ماہیے کے فروغ کے لئے بنیادی نوعیت کی خدمات انجام دی ہیں۔میری دو کتابیں ’’اردو میں ماہیا نگاری‘‘ اور ’’اردو ماہیے کی تحریک‘‘عارف فرہاد کی محنت کے نتیجہ میں شائع ہوسکی ہیں۔انہوں نے انہیں اپنے ادارہ’’فرہاد پبلی کیشنز‘‘ کے زیرِ اہتمام شائع کیا ۔
محمد وسیم انجم نے بھی اپنی بساط کے مطابق ماہیے کی ترویج کے لئے خاصا کام کیا ہے۔مجھے معلوم ہے کہ وسیم انجم اور عارف فرہاد دونوں کو وہاں کے بعض ماہیا مخالفین کی مقتدر حیثیت کے باعث ذاتی طور پر مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے لیکن اس کے باوجود ماہیے کے تئیں اور میرے لئے ان کے اخلاص میں کوئی کمی نہیں آئی۔وسیم انجم سے دوستی عارف فرہاد کے ذریعے سے ہوئی تھی۔میری تین کتابیں’’میری محبتیں‘‘۔’’عمرِ گریزاں‘‘ اور’’محبت کے پھول‘‘ انہوں نے عارف فرہاد کے ہاں دیکھیں۔ان سے وہ کتابیں لے کر ان پر ایک دلچسپ سا مضمون لکھا اور اسے شائع کرا دیا۔یوں ہمارا رابطہ ہوا۔پھر انہوں نے میری دوسری کتابوں پر بھی مضامین لکھے اور جلد ہی ایک کتاب’’حیدر قریشی فکرو فن‘‘مکمل کرکے چھاپ دی۔وسیم انجم مزاجاََ اور فطر تاََ دوستی نبھانے والے ‘محبت کرنے والے اور مخلص نوجوان ہیں۔ان کے ذریعے پھر مجھے ماہیا نگار اختر رضا کیکوٹی کی دوستی نصیب ہوئی ۔یہ تب ویکلی ’’ہوٹل ٹائمز‘‘اسلام آباد کے ایڈیٹر تھے۔میری کتابیں انہوں نے وسیم انجم سے لے کر پڑھیں اور ہماری دوستی ہو گئی۔ماہیے کے فروغ کے لئے انہوں نے اپنے اخبار کا فورم مہیا کردیا ۔مجھ سے محبت میں اس حد تک گئے کہ میرے ردِ عمل والے وہ مضامین جو کوئی اور اخبار یا رسالہ چھاپنے سے ہچکچاتا تھا انہوں نے بے دھڑک اپنے اخبار میں چھاپے‘ خود میرے لئے اپنے اخبار کے دوصفحات مختص کر کے اور اس پر میری حیثیت سے بڑھ کر عنوان دے کر میری عزت افزائی کی۔ عارف فرہاد ‘محمد وسیم انجم اور اختر رضا کیکوٹی تینوں دوست راولپنڈی میں میرے اَن دیکھے لیکن بے حد جانے پہچانے دوست ہیں۔سچی بات ہے ان کی دوستی میرے لئے بڑی تقویت کا باعث بنی ہے۔
دو ماہی’’گلبن‘‘احمد آبادکے ایڈیٹر سیّد ظفر ہاشمی سے تعلق کی نوعیت بھی نذیر فتح پوری کی طرح بہت پرانی اور غائبانہ تھی۔ ’’گلبن‘‘کے اجراء کے تھوڑے عرصہ بعد ہی اس میں میری بعض تخلیقات شائع ہوئیں۔یہ تخلیقات ڈاکٹر مناظر عاشق کے ذریعے سے چھَپیں۔تب وہ ’’گلبن‘‘سے براہِ راست وابستہ تھے۔ پھر ان سے ۱۹۹۳ء میں رابطہ ہوا۔میں نے ’’ماہیے کے بارے میں چند باتیں‘‘کے عنوان سے ایک تعارفی نوٹ لکھا اور ماہیے کا ایک انتخاب کرکے انہیں بھیجا۔انہوں نے اسے اہتمام سے شائع کیا۔پھر ’’گلبن‘‘ماہیے کے فروغ میں ایک اہم کردار ادا کرنے والا رسالہ بن گیا۔اس کا ماہیا نمبر شائع ہوا۔لیکن میرے تعلق کی نوعیت ماہیے کی حد سے آگے چلی گئی۔ایک دوسرے سے ملے بغیر ہمارے فیملی مراسم ہوگئے۔ اب بھابی ثریا اور میری بھتیجی سیما نہ میرے لئے اجنبی ہیں نہ میں ان کے لئے اجنبی ہوں ۔ سید ظفر ہاشمی کے ساتھ یہ مراسم ان کے خلوص اور محبت کا نتیجہ ہیں ۔
ابھی مجھے علامہ شارق جمال(ناگپور)‘قاضی حسیب(کراچی)‘سیّد اخترالاسلام (میرٹھ) ‘ شفیق سرونجی‘سلیم انصاری‘ساجد حمید(شیموگہ)‘غیاث انجم(بکارو سٹیل سٹی)‘ناوک حمزہ پوری‘ظہیر غازی پوری ‘محسن بھوپالی(کراچی)‘نیاز احمدصوفی(لاہور)‘بشری رحمن (لاہور) ‘ شاہدہ ناز(جہلم)قاضی اعجاز محور(گوجرانوالہ)،ذوالفقار احسن(سرگودھا)اور کئی اور نام یاد آ رہے ہیں۔ان میں سے بعض کے ساتھ میرے باقاعدہ دوستانہ تعلقات ہیں۔بعض سے براہِ راست رابطہ نہیں لیکن وہ میری تحریریں پڑھ کر اپنی محبت بھری رائے رسائل میں ہی بھیجتے رہتے ہیں۔ان کے جذبات پڑھتا ہوں تو مجھے خوشی ہوتی ہے کہ یہ لوگ تو کسی ربط کے بغیر صرف تحریر پڑھ کر خوشی کا اظہار کرنے والے مخلص لوگ ہیں اور تب ہی میں انہیں بھی اپنے اچھے دوستوں میں شمار کرتا ہوں۔
ناوک حمزہ پوری صاحب کے ساتھ تعلق میں پہلے بزرگی کا ایک حجاب سا تھا۔بعد میں انہوں اپنی بے تکلفی سے اسے بھی دور کردیا۔شارق جمال صاحب کے ساتھ بزرگی والا حجاب آج بھی قائم ہے لیکن مجھے ان کی محبت کا ہمیشہ احساس ہوتا ہے۔ظہیر غازی پوری کے ساتھ ابھی تک میری جھڑپیں ہی ہوئی ہیں لیکن پتہ نہیں کیوں مجھے ایسے لگتا ہے کہ ہم اس کے باوجود ایک دوسرے کو اچھے لگتے ہیں۔اسی لئے ان سے جھگڑوں کے باوجود مجھے ان سے بھی اپنائیت کی خوشبو آتی ہے۔ایک گمشدہ دوست ذکاء الدین شایاں ہیں۔’’جدید ادب‘‘کے پہلے دور میں ان سے بڑی دوستی رہی ۔پھر پتہ نہیں کیا ہوا میں ابھی بھی انہیں دل سے یاد کرتا ہوں۔
ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی سے دوستی کی نوعیت کچھ اور طرح کی ہے۔افسوس کہ ہم نے حال ہی میں ایک دوسرے سے انگلینڈ میں ملاقات کرلی ہے۔یوں وہ اَن دیکھے دوست نہیں رہے وگرنہ ان کے بارے میں تو بہت کچھ لکھنا تھا۔حالانکہ یہ ملاقات بھی کیا تھی۔
نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی
بڑی  آرزو  تھی   ملا قات       کی
ڈاکٹر مناظر کے ذریعے ہی ایک اور دوست ڈاکٹر فراز حامدی سے رابطہ ہوا۔انہیں میں نے بہت ہی مخلص ‘محبت کرنے والا اور دعا گو دوست پایا ہے۔ڈاکٹر جمیلہ عرشی کے بھائی ہی نہیں ادبی رہنما بھی ہیں۔مجھے ان کے ذریعے زندگی کے بعض نئے گوشے دیکھنے کا موقعہ ملا ہے۔
ان سارے دوستوں سے ہٹ کر اب ایک ایسے دوست کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔جو مجھ سے بہت زیادہ پیار کرتا ہے۔یہ بہت ہی انوکھادوست ہے۔اس سے میرا کوئی بھی بھید نہیں چھپا۔ایسے بھید جو انسان اپنے آپ سے بھی بعض اوقات چھپانا چاہتا ہے‘ میرے وہ بھید بھی اس کے علم میں ہیں۔اس نے ہمیشہ میرا بھلا چاہا ہے۔میں نے اس کی بات نہیں مانی اور نقصان اٹھایا تو اس نے خود ہی نقصان کی تلافی بھی کردی۔ایک زمانے میں ہمارا شدید قسم کا جھگڑا ہوگیا۔میں نے اس کے زندگی بھر کے احسانات کو نظر انداز کر کے اسے طعنہ دے دیا کہ تم ہو ہی کیا؟۔۔۔۔۔۔اس نے تب بھی بُرا نہیں منایا۔ حالانکہ تب میرے سارے گھر والوں نے بھی مجھے بے حد بُرا بھلا کہا تھا۔ویسے ایک بات ہے بظاہر بُرا نہ ماننے کے باوجود مجھے لگتا ہے اس نے مجھے خاصا رگڑا دلایا ہے۔دوستی میں ایسا بھی تو ہوتا ہے۔خصوصاََ محبت میں تو محبوب ‘محب پر یا محب‘محبوب پر بے وفائی کی صورت میں وار بھی کرا دیتا ہے۔سو اس نے بھی مجھے رگڑے دلائے۔اُن لوگوں کے ہاتھوں جنہیں میں اس سے زیادہ اپنا سمجھ بیٹھا تھا۔
آخر کار مجھے خود ہی اس کی طرف آنا پڑا۔لیکن میری واپسی محض نقصان اور فائدے کے باعث نہ تھی۔میں نے اس عرصہ میں اس کی دوستی اور محبت کا باقی دنیا کی دوستیوں اور محبتوں سے موازنہ بھی کیا اور پھر اس سے از سرِ نَو دوستی کرلی۔تجدیدِ محبت کرلی۔
کیا کوئی کسی ایسے دوست کا تصور کر سکتا ہے جو کبھی سامنے آکر ملا بھی نہ ہو اور اپنے دوست کی خیر خواہی میں ماں ‘باپ‘ بھائی‘ بہن ‘بیوی‘بچوں ‘ مخلص دوستوں سے بڑھ کر خیر خواہ ہو۔شاید آپ نے میرے اس بہت ہی پیارے دوست کو پہچان لیا ہے۔جی ہاں یہ میرا خدا ہے! جو ہم سب کا خدا ہے۔ہم سب کا خیر خواہ اور ہم سب سے بے پناہ محبت کرنے والا۔اپنا انکار کرنے والوں کے انکار پر مسکرا کر ان سے بھی محبت کرنے والا۔ مجھے جتنی دوستیاں نصیب ہوئی ہیں میرے اسی دوست کی عنایت سے نصیب ہوئی ہیں۔میں نے خلوصِ دل سے اس سے کہا تھا کہ مجھے بے لوث پیار کرنے والے دوست عطا فرما۔اس نے بے لوث دوستوں کی دولت سے مجھے مالامال کردیا۔اوپر جتنے اَن دیکھے دوستوں کا ذکر ہے وہ سب میرے اسی سب سے بڑے دوست کی محبت کا نتیجہ ہیں۔اسی کی عنایت ہیں ؂
ستم جو ہم پہ کئے اس نے بے حساب کئے
کرم  بھی  کرنے پہ  آیا  تو  بے شمار  دیا
اَن دیکھے دوست انسانوں میں سے ہوں یا خود خد اہو۔ ان کی دوستی فاصلے اور اَن دیکھے ہونے کے باوجودسچے خلوص کی مہک اور سچی محبت کی خوشبو دیتی رہتی ہے ۔یوں دوستی اور تعلق کو جانا پہچانا بنادیتی ہے۔اسی لئے میرے سارے اَن دیکھے دوست میرے لئے جانے پہچانے دوست ہیں اور مجھے ان کی عدم موجودگی میں بھی ان کی موجودگی کا احساس رہتا ہے۔
***

ابتدائی ادبی زمانہ

ابتدائی ادبی زمانہ

یادوں کے خزینے میں
خانپور اپنا تو
آباد   ہے  سینے   میں

اردو میں الفاظ کے استعمال کے حوالے سے دیکھیں تو خانپور کا تلفظ ’’خان پُور‘‘ بنتا ہے۔خانپور سے تعلق رکھنے والے لیکن بنیادی طور پر لکھنوکے تربیت یافتہ ہمارے ایک قدیم شاعر محسن خانپوری نے خانپور کا ذکر اپنے ایک شعر میں یوں کیا تھا ۔۔۔ ؂
نہیں ہے  قدرتِ حق  سے  بعید کچھ  محسنؔ
کہ لے ہی جائے وہ ساون میں خانپور مجھے
لیکن میری زبان پر ہمیشہ سرائیکی تلفظ والا’’خان پُر‘‘ہی آتا ہے۔اگر اسے ایسے ادا نہ کروں تو ایسے لگتا ہے جیسے یہ میرا خانپور نہیں بلکہ لکھنو کا کوئی مضافاتی خانپور ہے۔سو میرا خانپور لکھنے میں بھلے’’ خان پور‘‘ لکھا جائے لیکن اپنی ادائیگی میں ہمیشہ ’’خان پُر‘‘ ہوتا ہے۔میری شاعری میں خانپور اسی سرائیکی تلفظ کے ساتھ ہی آیا ہے۔مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میری ادبی نشوونما میں خانپور کا اور میری سرائیکی دھرتی کا بہت زیادہ حصہ ہے۔
میری بالکل ابتدائی ادبی تربیت میں میرے خاندان کے تین اہم افراد کا لاشعوری عمل دخل رہا۔ان کا میں اپنی بعض تحریروں میں ہلکا سا ذکر بھی کر چکا ہوں۔ابا جی نے مجھے اسکول جانے سے پہلے جس طرح اردو پڑھنا ،لکھنا سکھا دیا تھا وہ میری ادبی تربیت کا پہلا زینہ تھا۔ پھر امی جی کا گھر میں دلچسپی لے کر ناول پڑھنا بھی مجھے ادب کے ساتھ جوڑنے کا ایک سبب بنا۔امی جی نے ایک بار ایک طویل دعائیہ پنجابی نظم لکھی تھی ۔پھرمیرے بچپن ہی میں ماموں حبیب اﷲ صادق کا شاعر ہونا۔ میں سمجھتا ہوں میرے بچپن کے یہ سارے عوامل میری ادبی تربیت کا سبب بنتے رہے ہیں۔مجھے یاد ہے یہ ۱۹۶۴ء یا ۱۹۶۵ء کا زمانہ تھا ۔میں چھٹی ساتویں میں پڑھتا تھا۔ماموں صادق ڈیرہ اسماعیل خاں سے ہمارے ہاں خانپور آئے تھے۔تب شام کے وقت میں نے اور ابا جی نے ان سے ان کی ایک نظم سنی جو ویت نام کے موضوع پر تھی۔اس کا مرکزی مصرعہ میرے ذہن میں یوں رہ گیا ہے۔ زندہ باد اے ویت نام
ماموں صادق کا ترنم شاعرانہ انداز کا تھا۔مجھے اپنی وہ حیرت آج بھی یاد ہے جب میں ماموں صادق کی نظم سنتے ہوئے انہیں دیکھ رہا تھا اور اس دیکھنے میں ایک عجیب سی خوشی اور تفاخر کا احساس شامل تھاکہ میرے ایک ماموں شاعر ہیں!۔اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ جس کو اس کے قسم کے حالات مل جائیں وہ شاعر اور ادیب بن جاتا ہے۔یہ صلاحیت تو خدا کی طرف سے ملتی ہے۔صلاحیت بیج کی طرح ہوتی ہے اور جب تک اسے مناسب زمین اورموزوںآب و ہوانہ ملے ان کی نشوونما نہیں ہو سکتی۔میرے پانچوں بچوں میں ایسی خداداد صلاحیت نہیں تھی تو میری ادبی زمین اور آب و ہوا کے باوجود ان میں سے کوئی بھی شاعر اور ادیب نہیں بن سکا۔
اپنے گھر والوں کے مذکورہ اثرات سے ابھرتے ہوئے میں نے سب سے پہلی غزل خانپور میں اپنی نویں کلاس کے اختتام تک کہنے کی کوشش کی۔یہ غزل کیا تھی۔بس تُک بندی تھی۔مصرعوں کی روانی میں کہیں نہ کہیں سقم ضرور ہوں گے۔میں نے وہ غزل اس زمانہ میں سب سے چوری چھپے لاہور کے فلمی ماہنامہ’’شمع‘‘کو اشاعت کے لئے بھیجی۔چند دنوں ہی میں ’’شمع‘‘کی طرف سے جواب آگیا کہ آپ کی غزل ناقابلِ اشاعت ہے۔مزید یہ کہ آپ کسی سے اصلاح لیا کریں۔ اس وقت دل کی عجیب حالت تھی۔کبھی ’’شمع‘‘ رسالہ کے ایڈیٹر پر غصہ آتا اور کبھی اپنے آپ میں شر مندگی محسوس ہوتی۔میں نے اس بات پر خدا کا بے حد شکر ادا کیا کہ گھر والوں کو نہ میرے شاعری کرنے کا علم ہوا اور نہ ہی میری غزل کوناقابلِ اشاعت قرار دینے والے اس خط کا علم ہو سکا۔(چلو کچھ بھرم رہ گیا)اس غزل کا مقطع اب بھی مجھے یاد ہے۔
نہیں  لطف  حیدر ؔ وہ  ذکرِ خدا میں
جو ملتا ہے لطف ہم کو ذکرِ صنم میں
اس غزل کے مسترد ہونے کے دو فائدے ہوئے۔ایک تو یہ کہ میں نے پھر چھوٹی موٹی تک بندی کرتے رہنے کے باوجودایک عرصہ تک کسی رسالے کو غزل بھیجنے کی جرات نہیں کی۔دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ میں نے پھر اپنی کسی غزل میں ’’صنم‘‘کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ ’’سلگتے خواب‘‘ کی ایک غزل میں ایک بار یہ لفظ از خود آگیا تو میں نے اسے بھی حذف کردیا۔
۱۹۶۸ء میں دسویں جماعت پاس کرنے کے بعد میں نے حئی سنز شوگر ملز میں ملازمت کر لی۔اسی دوران میں نے ایک چھوٹا سا ناول لکھا۔یہ ناول اسکول کی ایک پتلی سی کاپی میں مکمل ہوگیا ۔ممکن ہے وہ طویل افسانہ ہولیکن مجھے اس زمانہ میں ناول ہی لگا ہو۔لیکن شایدوہ نہ تو ناول تھا نہ افسانہ۔۔۔وہ تو بس میرے اس وقت کے کچے پکے جذبات اور سماجی ناانصافیوں کے زخموں کی کسک کا اظہار تھا۔نیم رومانی،اور نیم انقلابی قسم کی جیسے میری اپنی ہی کہانی تھی جو میں نے لکھی تھی۔اس کہانی کی ایک ہی خوبی تھی کہ اس کا واحد قاری میں خود تھا اور قاری بھی ایسا کہ جو اسے مکمل کرتے ہوئے شدتِ جذبات سے آبدیدہ ہوتارہا اور بعد میں اسے پڑھتے ہوئے غم سے روتا رہا۔اس ناول کا ہیرو غریب تھا جو ظاہرہے میں خود تھا اور ہیروئن امیر تھی اور امیر ہونے کے علاوہ بہت خوبصورت بھی تھی۔ویسے بیک وقت بہت خوبصورت اور بہت امیر ہیروئن مجھے ابھی تک کہیں نہیں ملی۔
شوگر ملز میں ملازمت کرنے کے بعدمیری اپنے ایک ہمسایہ حفیظ سوز صاحب سے سلام دعا بڑھ گئی۔ہمارے گھر کے ساتھ والی گلی میں یہ فیملی آباد تھی۔ حفیظ سوز صاحب فلمی دنیا میں جانے کا شوق رکھتے تھے۔خانپور کے ماحول میں اور میرے اس وقت کے ذہن کے مطابق وہ شاعری کو جتنا جانتے تھے میرے لئے کافی تھا۔کالونی مڈل اسکول خانپور کے سامنے محکمہ انہار کے دفاتر تھے۔وہاں کے کسی افسر کے ایک صاحبزادہ (اب نام یاد نہیں رہا)سے حفیظ سوز کی دوستی تھی۔چنانچہ ہم تینوں نے مل کر ’’ایوان ادب‘‘نامی ایک ادبی انجمن قائم کی۔محکمہ انہار کے افسر کے صاحبزادے اس کے سرپرست،حفیظ سوز صدر،میں جنرل سیکریٹری،امین(مینو)خزانچی مقرر ہوئے۔ تاہم اس ادبی انجمن کا کبھی کوئی اجلاس نہ ہو سکا۔حفیظ سوز نے بھی شوگر ملز میں ملازمت کر لی۔وہاں سے وہ لاہور چلے گئے اوراداکار قوی کے فلمی ادارہ سے منسلک ہو گئے۔لیکن کوئی اہم ترقی نہ کر سکے تو پھر ملتان میں کوئی ملازمت کر لی۔
یہ وہ دور تھا جب ابھی میں نے باقاعدہ ادبی دنیا میں قدم نہیں رکھا تھا۔۱۹۷۱ء میں ، میں نے پہلی باقاعدہ غزل کہی۔یہ غزل بغیر کسی ردو بدل کے ۱۹۷۲ء کے کسی مہینے میں ہفت روزہ’’ لاہور‘‘ میں چھپ گئی۔ بالکل روایتی انداز کی اس غزل کا مطلع یہ تھا ۔۔۔؂
عقل نے جتنا  مِری  راہ  کو  ہموار  کیا
اتنا ہی میرے جنوں نے اسے دشوار کیا
اس غزل کے چھپنے کے بعد مجھ میں خود اعتمادی پیدا ہوئی۔چنانچہ پھر میں باقاعدہ غزلیں کہنے لگا۔
۱۹۷۴ء میں بزمِ فرید خانپور کے ذریعے سے مجھے اپنی زندگی کا پہلا مشاعرہ پڑھنے کا موقعہ ملا اور ہفت روزہ مدینہ بھاولپور میں چھپنے کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ بزمِ فرید کے دوستوں کا تذکرہ میرے خاکوں کے مجموعہ’’میری محبتیں‘‘میں آچکا ہے۔ اسی دوران غالباََ ۱۹۷۵ء کے وسط میں میرا نذر خلیق سے رابطہ ہوا۔انہیں میں نے اپنے ایک محلہ دار کے ساتھ دیکھا۔وہ محلہ دارحفیظ سوز کے بھائی عنایت نصرت صاحب تھے جو نصرت شیخ کے نام سے جانے جاتے تھے۔نصرت شیخ صاحب میرے محلہ دار تھے،میرے دوست حفیظ سوز کے چھوٹے بھائی تھے،اور ہفت روزہ مدینہ بھاولپور کے نمائندہ بھی تھے۔جبکہ میں ’’مدینہ‘‘میں بہت باقاعدگی سے لکھنے والا تھا۔چونکہ میرا میدان شروع سے ہی صحافتی سطح کا نہیں بلکہ ادبی سطح کا تھا(چاہے اس کا لیول کتنا ہی معمولی کیوں نہ رہا ہو) اس لئے کسی اخبار کی نمائندگی نہ میرا مسئلہ تھا نہ مجھے اس سے کوئی غرض تھی۔نذر خلیق تیرہ سال کا لڑکا تھا۔نصرت شیخ کی دوستی سے انہیں صحافت کا شوق ہوا۔مگر نصرت شیخ ہی ان کی راہ کی رکاوٹ بن گئے۔ نذر خلیق نے مجھ سے رابطہ کیا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ لکھنا سیکھنا چاہتے ہیں۔ میں نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور ادب و صحافت سے دلچسپی رکھنے کے ساتھ اپنی تعلیم کو لازماََ مکمل کرنے کی نصیحت کی۔
تب نذر خلیق محلہ رحیم آباد میں رہتے تھے اور میں محلہ خواجگان میں۔لیکن دن میں ہمارا ایک بار ملنا ضروری ہوتا تھا۔ کبھی میں نذر خلیق کے گھر جاتا اور وہاں سے پھر ہم میرے محلہ تک آتے۔کبھی نذرخلیق میرے ہاں آتے اور پھر ہم ان کے محلہ تک جاتے۔یہ عجیب زمانہ تھا جس میں پیدل چلتے ہوئے تھکن کا احساس ہی نہیں ہوتا تھا۔مجھے یاد ہے پیدل چلتے ہوئے میری رفتار خاصی تیز ہوتی تھی۔نذر خلیق بھی تیز رفتار تھے لیکن جیسے مجھ سے تھوڑا سا پیچھے رہ جاتے تھے۔بعد میں مجھے خانپورسے باہر کے بعض دوستوں سے باقاعدہ سننا پڑا کہ یار !اتنی تیزی اچھی نہیں ہوتی۔اطمینان سے چلتے ہیں۔ میں نے خود بھی اپنی اس عادت پر غور کیا تو مجھے احساس ہوا کہ میرے مزاج میں جلد بازی کا عنصر بہت زیادہ ہے۔اسی لئے تیزتیز پیدل چلنے سے لے کر کسی کام میں جت جانے کے بعد اسے نمٹا کر ہی دَم لینے تک اسی جلد بازی کے مختلف مظاہر ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ میں زندگی کے مختلف کاموں میں جلد بازی کی طرح، موت کے معاملہ میں بھی جلد بازی سے کام لے جاؤں گا۔بقول اقبال ساجد ؂
میں جلد باز تھا میدانِ عشق ہار گیا
جو آخری تھا وہی داؤ پہلے ہار گیا
ویسے مجھے اقبال ساجد جیسا شکست کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے کیونکہ عشق میں ہار جیت دونوں ہی بے معنی ہوتی ہیں۔ویسے بھی جس کے لئے موت ’’وصلِ یار‘‘جیسی ہو اس کے لئے تو جلدبازی بھی مفید ہوتی ہے۔بس اتنا ہے کہ موت کےوقت عزرائیل سے اتنا ضرور کہنا چاہوں گاکہ:
حضور آہستہ آہستہ،جناب آہستہ آہستہ
ہو سکتا ہے جلدبازی کے نتیجہ میں اتنا کہنے کی نوبت بھی نہ آئے۔خیر یہ ایک الگ موضوع ہے۔ بات ہو رہی تھی میری تیز رفتاری کی۔
صفدر صدیق رضی،آسی خانپوری اور نردوش ترابی وغیرہ میرے اچھے دوست تھے لیکن ایک مرحلہ پر آکر یہ سارے دوست مجھ سے الگ ہو کر متحد ہو گئے۔جن دنوں میں یہ دوست متحدہ محاذ بنانے کی تیاری کر رہے تھے ،انہیں دنوں میں ایک بار میں آسی خانپوری صاحب سے ملنے ان کے مینا بازار والے گھر میں گیا۔وہاں صفدر صدیق رضی بھی آ گئے۔کچھ دیر کی گپ شپ کے بعد میں وہاں سے روانہ ہوا۔مینا بازار سے صدر بازار کو پار کرنے کے بعد میں جیٹھہ بھٹہ بازار کی طرف مڑ کر چند قدم ہی آگے گیا تھا کہ پیچھے سے صفدر صدیق رضی اپنی موٹر سائیکل پر پہنچ گئے۔انہوں نے موٹر سائیکل روک کر پہلے حیرت کا اظہار کیا کہ میں پیدل ہوتے ہوئے اتنی جلدی یہاں تک پہنچ گیا ہوں۔تب میں نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ بے ساختہ طور پر انہیں کہا تھا’’رضی صاحب! عقل سے پیدل ہونے اور ویسے پیدل ہونے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔اور آپ جانتے ہیں کہ میں صرف ویسے پیدل ہوں‘‘صفدر صدیق رضی پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ بولے:
’’چلیں بیٹھیں میں آپ کو ڈراپ کرتا چلوں گا‘‘
رضی صاحب کا باقی ذکر بعد میں یہاں اس سے پہلے زمانے کی بات ہو رہی تھی۔نذر خلیق کے ساتھ دوستی میں چھوٹے بھائی جیسی صورت تھی۔تب ہم لوگ مل کر نہ صرف ہفت روزہ مدینہ میں چھپتے رہے بلکہ ادبی رسالہ ’’نئی قدریں‘‘ حیدرآبادمیں بھی چھپنے لگے۔بزم فرید سے الگ ہونے کے بعد میں نے نذر خلیق،اے کے ماجداور جمیل محسن کے ساتھ مل کر حلقہ ء ارباب ذوق خانپور کی بنیاد رکھی۔ تب ہی ہم دونوں نے مل کر ’’نئی قدریں‘‘کے ایڈیٹر جناب اختر انصاری اکبرآبادی کو خانپور میں مدعو کیا۔پاپولیشن پلاننگ والوں کے دفتر میں ان کے اعزاز میں تقریب منعقد کی۔یہ دفتر تب پیراڈائز سینما کے ساتھ ماڈل ٹاؤن میں ہوتا تھا۔ اختر انصاری اکبرآبادی کے بارے میں ہمارے اہلِ ادب کا رویہ زیادہ تر تمسخرانہ رہا ہے۔ذاتی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ ہفت روزہ ’’مدینہ‘‘بھاولپور کے علامہ منظور احمد رحمت کے بعد ادبی جرائد میں میری اوّلین حوصلہ افزائی اختر انصاری اکبر آبادی نے اپنے رسالہ’’نئی قدریں‘‘ میں کی۔اسی لئے میں آج بھی ان کے لئے اپنے دل میں ایک احترام محسوس کرتا ہوں۔
اسی دوران ایک بار میں اور نذر خلیق میرے گھر کے سامنے بیٹھے تھے۔سامنے سڑک پر سے گزرتے ہوئے خواجہ ادریس اور رب نواز قریشی نے ہمیں دیکھا اور ہماری طرف چلے آئے۔میں نے انہیں بیٹھے بیٹھے ہاتھ ملایا اور تشریف رکھنے کو کہا۔خواجہ ادریس کو یہ برا لگا اور انہوں نے تشریف رکھنے کی بجائے مجھے تھپڑ جڑ دیا۔اس واقعہ اور بد مزگی کے بعد نذر خلیق نے ویکلی ’’زندگی‘‘میں اس واقعہ کو درج کرکے میری حمایت میں اور مذکورہ دوستوں کی مذمت میں ایک طویل مکتوب شائع کرایا۔رب نواز قریشی ذاتی طور پر بہت اچھے انسان ہیں۔ہمارے اور ان کے درمیان بہت بڑا طبقاتی فرق تھا اس کے باوجود وہ کئی بار میرے ساتھ برابر ہو کر بیٹھے اور دوستانہ انداز میں ملے۔میری ابتدائی غزلوں کو سن کر انہوں نے ایک دوبار تبدیلی کے معقول مشورے بھی دئیے۔جو مجھے واقعی اچھے لگے۔۔۔خواجہ ادریس بھی طبعاََ اچھے انسان ہیں۔بس یہ بد قسمت واقعہ ایسے ہونا تھا، ہو گیا۔شاید اس میں کچھ میری بے وقوفی بھی شامل تھی۔اختر انصاری کے بعد ۔۔۔۔اور ایک عرصہ کے بعد جب ڈاکٹر وزیر آغا خانپور تشریف لائے تو میں نے ان کے اعزاز میں بلدیہ خانپور کے جناح ہال میں تقریب کا اہتمام کیا۔تب خواجہ ادریس نے سابقہ تلخی کی ساری تلافی کردی۔میں نے ان سے کہا کہ آپ اس تقریب کی نظامت کریں۔انہوں نے بڑی صاف گوئی سے مجھے نصیحت کی کہ اتنا بڑا ادیب ہمارے شہر میں آرہا ہے۔اس تقریب کی نظامت میرے لئے اعزاز ہے لیکن اصلاََ یہ آپ کا حق بنتا ہے۔اس حق کو ضائع نہ کریں۔ایسے مواقع بار بار نہیں آتے۔چنانچہ پھر میں نے ہی اس تقریب کی نظامت کی۔خواجہ ادریس نے اس تقریب کو کامیاب بنانے کے لئے ہر ممکن تعاون کیا۔ نہ صرف تقریب میں شرکت کی بلکہ اپنے مخصوص انداز میں ایک زبردست تقریر کی۔ اس تقریب میں خانپور کے بیشتر اہم شاعر اور ادیب شامل تھے۔نذر خلیق نے بہت سے انتظامی معاملات کو بہتر طور پر سنبھالے رکھا۔
خواجہ ادریس ،رب نواز قریشی کا ذکر ہو اور انجمن انسداد شعراء خانپور کا ذکر نہ ہو یہ ممکن ہی نہیں ہے۔اس انجمن کا ذکر ’’میری محبتیں‘‘میں آچکا ہے لیکن یہاں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ایک بار میں بھی ان دوستوں کے ہتھے چڑھ گیا تھا۔میں نہ تو مشاعروں کا شاعر ہوں ،نہ مجھے کلام سنانے کا سلیقہ آتا ہے۔ان دوستوں نے اپنے مخصوص انداز کے ساتھ مجھ سے کلام سننا شروع کیا۔پھر ان سے سنجیدہ گفتگو ہوئی تو کہنے لگے ہم صرف متشاعروں کا خاتمہ چاہتے ہیں۔اچھے شاعروں کی ہم قدر کرتے ہیں۔ خورشید احمد ٹمی کی مثال دے کر کہنے لگے دیکھیں اگر وہ بے تکی شاعری کرنے میں لگا رہتا تو کیا اس کی افسانہ نگاری اتنی ابھر سکتی جتنی اب ابھر آئی ہے؟۔۔۔بات ان دوستوں کی مناسب تھی۔
اب یہاں جرمنی میں رہتے ہوئے جب میں مغربی ممالک میں مقیم بیسیوں بے وزن شاعروں کو دیکھتا ہوں،جعلی شاعروں اور ادیبوں کو دیکھتا ہوں جو محض دولت کے بَل پر ریڈی میڈ شاعر اور ادیب بن گئے ہیں تو مجھے کئی بار خواجہ ادریس ،رب نواز قریشی ،شیخ فیاض الدین اور انجمن انسداد شعراء خانپور کے دوسرے دوست شدت سے یاد آتے ہیں۔کاش یہ دوست یہاں آسکتے اور ایسے جعلی شاعروں اور ادیبوں کی سرکوبی کے لئے کچھ کر پاتے۔
مجھے تو بالکل ہی بھول گیا تھا لیکن اب نذر خلیق صاحب نے یاد دلایا ہے کہ میں نے ایک بار ایک فلمی رسالہ’’سنگیت‘‘خانپور سے شروع کیا تھا۔یہ ۱۹۷۷ء کی بات ہے۔تب میں نے جن دوستوں کی ٹیم بنا کر یہ فلمی رسالہ شروع کیا ان میں نذر خلیق بھی شامل تھے۔اس کا صرف ایک ہی شمارہ نکل سکا۔۱۹۷۸ء میں پھر میں نے خانپورسے ’’جدید ادب‘‘جاری کیا۔اس کی ٹیم میں صفدر صدیق رضی اور فرحت نواز(جو اَب رحیم یارخان میں انگریزی کی پروفیسر ہیں)موثر پارٹنر تھے ۔ رضی صرف دو،ڈھائی سال تک دوستی نبھا سکے۔اور پھر وہ ’’جدید ادب‘ ‘ کی ادارت میں شامل نہ رہے۔البتہ فرحت نواز رسالہ کی ادارت میں آخر دَم تک شامل رہیں۔
رضی میرے بہت قریبی دوست تھے۔میرے ذاتی عمومی حالات تو ایسے تھے کہ میں اپنی غزلیں اور دوسری تخلیقات لکھنے کے لئے کاغذ قلم اور سیاہی خریدنے کی بھی پوری استطاعت نہیں رکھتا تھا۔اس کے باوجود ’’جدید ادب‘‘جیسا رسالہ جاری کر رکھا تھا۔اس سلسلے میں صفدر صدیق رضی نے پیراڈائز سینما کے قریب سٹیشنری کی ایک دوکان پر اپنا کھاتہ کھول رکھا تھا اور اسکے مالک کوہدایت کر رکھی تھی کہ حیدر قریشی جو سٹیشنری جب چاہے رضی کے حساب سے لے سکتا ہے۔’’جدید ادب‘‘کے سلسلہ میں جتنی سٹیشنری کی ضرورت پڑتی تھی میں وہاں سے لے لیا کرتا تھا۔اپنی ضرورت کے لئے میں نے کبھی ایک پیسے کی چیز بھی نہیں لی تھی۔ پھر جب وہ ایک بہت ہی معمولی بات پر دوستی کو چھوڑ گئے تب ایسا نہیں کیا کہ مجھے براہ راست کہہ دیتے کہ میری طرف سے ’’جدید ادب‘‘ کا کام ختم ہوا۔اب میری طرف سے کوئی اسٹیشنری نہیں لیجئے گا۔اس کے بجائے انہوں نے سٹیشنری شاپ والوں کو کہہ دیا کہ جب حیدر قریشی کوئی سامان لینے آئے اسے بتادیں کہ میں نے منع کردیا ہے۔مجھے ان کے اندر کی ’’پاک تبدیلی‘‘کا کوئی علم نہ تھا۔چنانچہ حسب معمول اگلے شمارہ کی تیاری کے سلسلہ میں دوکان پر گیا اور ایک دستہ کاغذ کے لئے کہا تومجھے رضی صاحب کا پیغام سنا دیا گیا۔میں پیغام سن کر حیران رہ گیا۔
اچھا ہوا کہ ہم سے محبت نہیں تمہیں
اچھا  ہوا  کہ  دل  کا  یہ ابہام مر گیا
میری ’’اوقات‘‘دیکھئے کہ اس وقت میری جیب میں ایک دستہ کاغذ خریدنے جتنے پیسے بھی نہ تھے کہ اپنی طرف سے ہی کاغذ خرید لیتا۔شرمندہ ہو کر وہاں سے لَوٹ آیا۔میرا خیال ہے کہ ناحق ملنے والے دکھ کی تلافی خدا کی طرف سے کسی نہ کسی اجر کی صورت میں ضرور ملتی ہے۔اب جو کاغذ کے بجائے کمپیوٹر پر بیٹھ کر اپنی تخلیقات لکھتا رہتا ہوں تو شاید یہ بھی انہیں دکھوں کا صلہ ہو جو بعض دوستوں نے بے جا طور پر دئیے۔بہر حال اﷲ صفدر صدیق رضی صاحب کو خوش رکھے۔
خانپور نے مجھے میری ادبی پہچان عطا کی۔بھاولپور کی سطح پر مجھے نقوی احمد پوری،مظہر مسعود،خورشید ناظر،ڈاکٹر انور صابر جیسے دوست عطا کئے ،توپروفیسر ڈاکٹر شفیق احمد جیسے غائبانہ محبت کرنے والے مہربان بھی ملا دئیے۔ ایک طرف خانپور سے نذر خلیق نے دلی محبت کے ساتھ میرے بارے میں تین سو سے زائد صفحات پر مشتمل ایک بہت عمدہ کتاب ’’حیدر قریشی کی ادبی خدمات‘‘مرتب کرکے چھاپ دی ہے۔دوسری طرف ڈاکٹر انور صابر کی صاحبزادی منزّہ یاسمین نے اپنے ایم اے کے مقالہ کے لئے میرے ادبی کام کو اپنا موضوع بنایا تو اس میں ڈاکٹر انور صابر اور خورشید ناظر کی محبت کا بھی کچھ حصہ شامل تھا اور ڈاکٹر شفیق تو بہ نفس نفیس اس مقالہ کے نگران تھے۔فل اسکیپ کے ۲۰۰ سے زائد صفحات پر مشتمل یہ مقالہ در حقیقت میری سرائیکی دھرتی کی طرف سے خود میرے لئے میری پہچان کا ایک تحفہ ہے۔میں اس مقالہ کو پڑھ کر صرف خوش ہی نہیں ہوا،اپنی دھرتی کے حوالے سے اپنی پہچان کے ایک اہم مرحلے سے بھی گزرا ہوں۔
جیسا کہ میں شروع میں ذکر کرچکا ہوں،میں نے اپنی سب سے پہلی بے تکی اور ناقابلِ اشاعت غزل میں لکھا تھا۔۔ ؂
نہیں  لطف  حیدرؔ وہ  ذکرِ  خدا میں
جو ملتا ہے لطف ہم کو ذکرِ صنم میں
اب اپنے پورے ادبی سفر کو شاعری کے حوالے سے دیکھنے لگا ہوں تو مجھے اپنی تین نئی غزلوں کے مقطعوں میں جیسے اپنے ادبی سفر کی پوری روداد مل گئی ہے۔بس میں نے مذکورہ بالا شعر سے لے کر ان اشعار تک کا سفر کیا ہے۔
یا آنکھوں میں خاک برستی تھی حیدرؔ
یا  اب  پیہم  اشک   دعا میں گرتے ہیں


بن جاتا تریاق  اسی  کا  زہر  اگر  تم  حیدر ؔ
کوئی آیت پیار کی پڑھتے اور اُس پر دَم کرتے


آنکھیں اُس کی بھی ہیں اب برسات بھری
حیدرؔ مَیل دلوں  کے  دُھلنے  والے  ہیں
میری شاعری کی بات میری پہلی کے غزل کے مقطع سے شروع ہوئی تھی اور اب تک کی تازہ غزلوں کے مقطعوں تک آ پہنچی ہے۔گویا ’’سخن گسترانہ ‘‘بات مقطع سے شروع ہو کر مقطعوں میں آ پڑی ہے۔
میرے پہلے بے تکے اظہار سے لے کر ایسے اشعار تک۔۔۔۔یہی میرے اب تک کے شعری سفر کی رُوداد ہے۔فکری اور شعری لحاظ سے جتنا بھی سفر طے ہوا ہے سراسر خدا کا فضل اور احسان ہے۔وگرنہ من آنم کہ من دانم!
***